ایران نے 2015 میں جوہری معاہدے پردست خط کے بعد سے 228 بیلسٹک میزائل داغے:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں ایک نئی رپورٹ منظرعام پرآئی ہے۔اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر دست خط کرنے کے بعد سے اب تک ایران نے 228 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

’آرسنل: اسلامی جمہوریہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا جائزہ‘کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ایران نے صرف 2022 میں 100 سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغے جو 2021 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔

واشنگٹن میں قائم فاؤنڈیشن برائےدفاع جمہوریت کے سینیر فیلو بہنام بن طالبلو کی مرتب کردہ رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کے تجربات فوجی مشقوں اورکارروائیوں کا حصہ ہیں۔

2022ء کے تجربات میں عراق میں بیلسٹک میزائل حملہ بھی شامل ہے جس میں ایک امریکی شہری ہلاک ہوگیا تھا۔ انھوں نے یہ خدشہ ظاہرکیا ہے کہ جیسے جیسے ایران کی بیلسٹک میزائلوں کی صلاحیت میں بہتری آئے گی، ایرانی حکومت ان کے استعمال کی طرف زیادہ مائل ہوسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے میزائلوں کی رینج،ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے اور نقل وحرکت سمیت اپنی بنیادی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے اور ساتھ ہی زیرزمین اسلحہ ڈپوؤں اور اڈوں میں اضافہ کیا ہے۔

سینیر فیلو نے یہ بھی پیشین گوئی کی کہ ایران کی خطے میں عدم استحکام کی تخریبی کارروائیاں اس کے بیلسٹک میزائلوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہیں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیلسٹک میزائل کی درستی، رینج، نقل و حرکت، وار ہیڈ ڈیزائن اور بقا (بشمول زیر زمین میزائل ڈپوؤں کے قیام) میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک کی طویل فاصلے تک مارکرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ بیلسٹک میزائل تہران کو مخالفین کو روکنے، سزا دینے اور مجبور کرنے کے ذرائع مہیّا کرتے ہیں۔ وہ ایران کی روایتی جنگی خامیوں کی تلافی کرتے ہیں اورجوہری ہتھیاروں کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ یہ رائے ظاہر کی گئی ہے کہ بیلسٹک میزائل پروگرام ایران کو فوجی انتقام کے کم خوف کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے کا اعتماداورسلامتی فراہم کرتا ہے۔اس سے خطرہ مول لینے میں اضافہ ہوسکتا ہے ، جس میں اس کے ہتھیاروں کا میدان جنگ میں استعمال بھی شامل ہے۔ ایران کو روکنے میں ناکامی ممکنہ طور پر مزید میزائلوں کے استعمال کی ضمانت دے گی۔

رپورٹ میں ایران کی جانب سے عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنے آلہ کارگروپوں کو بیلسٹک میزائلوں مہیّا کرنے اور خطے میں خلیجی ریاستوں، اسرائیل اور امریکی افواج کو لاحق خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ایران پرمسلسل دباؤ کے بغیر اس کامیزائل پروگرام روکے جانے کا امکان نہیں ہے۔

اس میں مزیدکہا گیا ہے کہ مغربی پالیسی سازوں کواس بات پراتفاق رائے حاصل کرنا چاہیے کہ ایران کے میزائل خطرے کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔مغربی اتحاد اور عزم کی عدم موجودگی میں امریکی حکومت یقینی طور پر مذاکرات کی میز پر مغرب کی نمائندگی کرے گی۔ واشنگٹن کو ایسی پالیسیاں اختیار کرنی چاہییں جو سفارتی، معلوماتی، فوجی اور اقتصادی ذرائع سے ایرانی میزائل پروگرام میں خلل ڈالیں، اس کو روکیں اور وقتِ ضرورت اس کی قدروفعالیت کوکم کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں