ایران میں طالبات کو زہر دینے کے واقعات پر امریکہ کو شدید تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکہ نے جمعرات کو سینکڑوں ایرانی اسکول کی طالبات کو زہریلے حملوں کی لہر میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ایران سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ نے جمعرات کو سینکڑوں ایرانی طالبات کو زہر دینے کے اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ایران سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران میں پچھلے تین مہینوں میں، طالبات پر زہریلے حملوں کے باعث سانس کی تکلیف کے سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زہر دینے کی کوشش ملک میں لڑکیوں کے سکولوں کو زبردستی بند کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ہمیں ایران سے آنے والی خبروں پر گہری تشویش ہے۔

"سچ تو یہ ہے کہ ہم ابھی نہیں جانتے کہ ( طالبات میں ) ان بیماریوں کی وجہ کیا ہے۔ ہم رپورٹس دیکھتے ہیں کہ ایرانی حکومت اس کی تحقیقات کر رہی ہے، یہ صحیح طریقہ کار ہے۔"

"ہم چاہتے ہیں کہ یہ تحقیقات مکمل ہوں، اور شفاف ہوں۔ اسکول جانے والی چھوٹی بچیوں کو صرف سیکھنے کی فکر کرنی چاہیے۔ انہیں اپنی حفاظت کے بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔"

کربی کے تبصروں کو سوشل میڈیا پر کچھ تنقید کا سامنا کرنا پڑا، بعض حلقوں نے حکومتی تحقیقات پر شک کا اظہار کیا ہے۔

"بائیڈن انتظامیہ ایران کی حکومت سے کیمیائی حملوں کی "شفاف" تحقیقات کی توقع کیسے کر سکتی ہے؟ مہسا امینی کی "تحقیقات" کیسے ہوئی؟ یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران (یو اے این آئی) کے پالیسی ڈائریکٹر جیسن بروڈسکی نے ٹوئٹر پر اس 22 سالہ ایرانی کرد خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا جس کی ستمبر میں پولیس کی حراست میں موت نے کئی مہینوں تک حکومت مخالف مظاہروں کو جنم دیا۔

"یہ نظام جھوٹ۔ عدم شفافیت، بدعنوانی، گیس لائٹنگ اور کور اپس پر مبنی ہے،‘‘ بروڈسکی نے مزید کہا۔

واضح رہے کہ جمعرات کو سرکاری میڈیا نے خبر دی تھی کہ دارالحکومت تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں یونیورسٹی کے ہاسٹل کی 21 طالبات میں زہر کی علامات ظاہر ہونے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کے روز لڑکیوں کے کم از کم 10 اسکولوں کونشانہ بنایا گیا، جن میں سے سات شمال مغربی شہر اردبیل اور تین دارالحکومت میں واقع ہیں۔

نائب وزیر صحت یونس پناہی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ زہر دینے کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کو بند کرنا تھا۔

کچھ ایرانیوں نے، جن میں سرکردہ کارکن بھی شامل ہیں، الزام عائد کیا ہے کہ حکومت ان حملوں میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہسا امینی کی موت کے بعد ایران بھر میں پھیلنے والے مظاہروں کے پانچ ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد ہونے والی زہریلی کارروائیاں جان بوجھ کر کی گئی ہیں اور احتجاج میں شرکت کرنے پر اسکول کی طالبات کے خلاف "انتقام" کی ایک شکل ہیں۔

مہسا امینی 16 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں خواتین کے لیے لباس کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد انتقال کر گئی تھی۔ اس کی موت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جن میں اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے مطالبہ کیا جارہا ہے۔

ایران بھر میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی طالبات احتجاج میں شامل ہوئیں، سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیوز میں انھیں سر سے اسکارف اتارتے ہوئے اور بعض اوقات اسکولوں کے احاطوں میں حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں