امریکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکے: اسرائیل کا اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے جمعہ کو کہا ہے کہ انہوں نے امریکی چیف آف سٹاف مارک ملی کے ساتھ ایران کی طرف سے اسرائیل اور دنیا کو لاحق خطرات کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے واشنگٹن کو تعاون کرنے کا کہا ہے۔ مزید برآں اسرائیل نے جمعہ کو مارک ملی کو استقبال کیا ۔ اس دوران مارک ملی سے کہا گیا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے تعاون کی ضرورت ہے۔

مارک ملی کا یہ غیر اعلانیہ دورہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے دورے سے پہلے ہوگیا ہے۔ لائیڈ آسٹن اپنے دورہ میں مصر اور اردن بھی جائیں گے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کے دفتر نے مارک ملی کو بتایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مسلسل تعاون کی ضرورت ہے ۔

خیال رہے 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران نے ایسی ٹیکنالوجیز میں ترقی کی ہے جو اسے بم بنانے کے قابل بنا سکتی ہیں۔ تاہم تہران ایسی کسی بھی کوشش کی تردید کر رہا ہے۔

مارک ملی کے ترجمان کرنل ڈیو بٹلر نے کہا ہے کہ امریکی جنرل اور اسرائیلی حکام اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے خطے کو درپیش بہت سے چیلنجز اور مواقع پر بات چیت کریں گے۔ تاہم انہوں نے مارک ملی کے دورے کے ایجنڈے کی وضاحت نہیں کی۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے تل ابیب میں ایک سیکورٹی کانفرنس میں ایران پر حملے کے بارے میں کہا تھا کہ ہم جتنا زیادہ انتظار کریں گے، اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔ ہم نے طویل انتظار کیا ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اپنی ہر ممکن طاقت استعمال کرنے کی کوشش کروں گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں