کانگریس نے بائیڈن خاندان کی مالی سرگرمیوں سے متعلق خفیہ دستاویزات تک رسائی حاصل کر لی

ریپبلکن کے زیرانتظام نگران کمیٹی امریکی صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کی سرگرمیوں کی جانچ کی کوشش کر رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یو ایس ہاؤس کی نگران کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ ہمیں صدر جو بائیڈن کے خاندان کے ارکان اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے متعلق کچھ بینکنگ سرگرمیوں کی رپورٹس کا جائزہ لینے کی اجازت دے گا۔

جیمز کومر نے اپنے بیان میں کہا کہ دو ماہ کی سست روی کے بعد محکمہ خزانہ بالآخر ہمیں بائیڈن خاندان کی مشکوک سرگرمیوں کی رپورٹس اور ان کے ساتھیوں کے کاروباری معاملات تک رسائی دے رہا ہے۔

ریپبلکن بائیڈن خاندان کے کاروباری معاملات کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر مشکوک سرگرمی کی رپورٹس اور بینک ریکارڈ تلاش کر رہے ہیں۔ ان مشکوک سرگرمیوں کو ’’ SARs‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جیمز کومر نے حال ہی میں صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے تین سابق ساتھیوں کے لیے اضافی بینکنگ ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے بینک آف امریکہ کو ایک درخواست بھی دی تھی ۔

کومر نے الزام لگایا ہے کہ مالیاتی ریکارڈ خاص طور پر غیر ملکی کاروباری سودوں پر مشتمل ریکارڈ کے حوالے سے بائیڈن اپنا غیر ضروری اثر و رسوخ دکھا سکتے ہیں ۔ وائٹ ہاؤس نے جیمز کومر کے الزامات کی تردید کی اور تحقیقات کو سیاسی محرک قرار دیا ہے۔ بائیڈن نے پہلے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے کسی بھی غیر ملکی سودے میں ملوث نہیں تھے۔

12
12

تاہم کمیٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ہم بائیڈن خاندان کی کاروباری سکیموں کی حد تک تعین کرنے کے لیے منی ٹریل کے حصول کے لیے بینک دستاویزات اور مشتبہ سرگرمیوں کی رپورٹس کا استعمال جاری رکھیں گے۔ یہ دیکھا جائے گا کہ کہیں بائیڈن نے ان سودوں میں ایسا سمجھوتہ تو نہیں کیا ہے جس سے قومی سلامتی کو کوئی خطرہ ہو۔ اگر ٹریژری نے ایک بار پھر تحقیقات کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو ہم بھی اسے عمل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اپنے اختیار کے ٹولز کا استعمال جاری رکھیں گے۔

پریس ریلیز کے مطابق ٹریژری ڈپارٹمنٹ نے کمیٹی کو دستاویزات کے خفیہ جائزے کی اجازت دی ہے۔ یعنی اس بات پر کچھ پابندیاں ہوں گی کہ کومر اور ان کی ٹیم دستاویزات کو کیسے دیکھ سکتے اور ان تک کس حد تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ معاملے سے واقف ایک شخص نے ’’سی این این‘‘ کو بتایا کہ یہ جائزہ اس ہفتے کے اوائل میں ہی شروع ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں