یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اتوارکے روزکہا ہےکہ اگر بیلاروس اپنے ہاں روس کے جوہری ہتھیاروں کو نصب کرتا ہے تو اس کے خلاف نئی پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔
انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ ’’بیلاروس کی جانب سے روسی جوہری ہتھیاروں کی میزبانی کامطلب غیرذمہ درانہ کشیدگی میں اضافہ اور یورپی سلامتی کے لیے خطرہ ہوگا۔ بیلاروس اب بھی اسے روک سکتا ہے، یہ اس کا انتخاب ہے۔یورپی یونین مزیدپابندیوں کےساتھ جواب دینے کوتیار ہے‘‘۔
روسی صدرولادی میرپوتین نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نصب کرے گا۔انھوں نے کہاکہ جوہری ہتھیاروں کی تنصیب امریکاکے اقدامات سے ملتی جلتی ہے۔اس نے خود بیلجیئم، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈزاور ترکیہ میں اپنے اڈوں میں اس طرح کے ہتھیار ذخیرہ کررکھے ہیں۔
اس اعلان کے بعد سے جوہری جنگ کے خدشات میں اضافے کے پیش نظرماہرین کا خیال ہے کہ کسی بھی روسی حملے میں ممکنہ طورپرچھوٹے حجم کے جنگی ہتھیار شامل ہوں گے،جنھیں 'تزویراتی' طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کے مقابلے میں ’ٹیکٹیکل‘ کہا جاتا ہے۔
یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے روس پراپنی ذمہ داریوں سے انحراف اورجوہری تخفیف اسلحہ کے ڈھانچے اور عمومی طور پربین الاقوامی سلامتی کے نظام کو کمزورکرنے کا الزام عایدکیا ہے۔
بیان میں بین الاقوامی برادری پرزوردیا گیا ہے کہ وہ ولادی میرپوتین کی حکومت کو اس کی تازہ جوہری اشتعال انگیزی پرواضح پیغام دے اور اس کو آگاہ کردیا جائے کہ اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔