اوپیک پلس

سعودی عرب ،اوپیک پلس کی تیل پیداوارمیں کٹوتی کے بعدقیمتوں میں قریباً6 فی صد اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی قیادت میں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی جانب سے یومیہ دس لاکھ بیرل سے زیادہ تیل پیداوار میں رضاکارانہ کٹوتی کے اعلان کے بعد پیر کی صبح ایشیائی تجارت میں قیمتوں میں قریباً چھے فی صد اضافہ ہوا ہے۔

ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 5.74 فی صد اضافے سے 80.01 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ کے 5.67 فی صد اضافے کے ساتھ 84.42 ڈالر فی بیرل میں ہوئے ہیں۔

سعودی عرب،عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، الجزائر اورعُمان کی جانب سے تیل کی پیداوار میں یومیہ کٹوتی کا اقدام اگلے ماہ سے سال کے آخر تک نافذالعمل رہے گا۔یہ گذشتہ سال اکتوبر میں اوپیک پلس کارٹیل کی جانب سے یومیہ 20 لاکھ بیرل کی کمی کے بعد پیداوار میں سب سے بڑی کٹوتی ہے۔

اوپیک پلس میں شامل روس نے تیل کی یومیہ پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل کی کٹوتی میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے اور امریکا کی جانب سے پیداوار میں اضافے کے کے باوجود یومیہ پیداوارمیں کمی کے اعلانات کیے گئے ہیں۔

بعض معاشی ماہرین کے مطابق اس سے افراطِ زر کے بارے میں نئے خدشات پیداہوں گے اور مرکزی بینکوں پر شرح سود میں مزید اضافہ کرنے کے لیے مزید دباؤ پڑے گا۔

سٹی انڈیکس کے میٹ سمپسن نے کہا کہ ’’متوقع افراط زرکی بلند سطح (طویل عرصے تک) زیادہ شرح سود کا سبب بن سکتی ہےاوراسٹاک ممکنہ طور پرقیمتوں میں اضافے کی اس پیش رفت کے موافق نہیں ہوں گے،لہٰذا ہم ہفتے کا مشکل آغازکرسکتے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ سعودی عرب آیندہ ماہ مئی سے 2023 کے آخر تک یومیہ 500،000 بیرل (بی پی ڈی) پیداوار میں کمی کرے گا۔روس نے بھی 2023 کے آخر تک 500،000 بیرل یومیہ رضاکارانہ کٹوتی میں توسیع کا اعلان کیاہے۔

متحدہ عرب امارات، کویت، عراق،عُمان اور الجزائر نے بھی رضاکارانہ طور پر اسی مدت کے دوران میں تیل کی اپنی یومیہ پیداوار میں کمی کریں گے۔متحدہ عرب امارات مئی سے 2023 کے اختتام تک رضاکارانہ طور پر تیل کی پیداوار میں 144,000 بیرل یومیہ کمی کرے گا۔

کویت 128,000 بیرل یومیہ کٹوتی کرے گا۔عراق نے اپنی پیداوار میں 211،000 بیرل یومیہ اور عُمان نے 40،000 بیرل یومیہ پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔الجزائر نے کہا ہے کہ وہ اپنی پیداوارمیں 48,000 بیرل کی کٹوتی کرے گا۔

سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ مملکت کی جانب سے رضاکارانہ کٹوتی حفظ ماتقدم کے طورپرکی جارہی ہے۔اس کا مقصدتیل کی مارکیٹ کے استحکام کی حمایت کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں