کیالیونل میسی پی ایس جی سے دستبردارہوکرسعودی کلب الہلال میں شمولیت اختیارکررہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ارجنٹائن کے اسٹارفٹ بالرلیونل میسی ممکنہ طور پر سیزن کے اختتام پرپیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کلب چھوڑ دیں گے اور وہ سعودی کلب الہلال کی جانب سے میگاآفرکا انتخاب کرسکتے ہیں۔

لیونل میسی کے قریبی ذرائع نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ نئے معاہدے پر دست خط کے بجائے لیونل میسی کاسیزن کے اختتام پر پی ایس جی چھوڑنے کا زیادہ امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس جی کی جانب سے ان کے معاہدے کی تجدید پرزور نہیں دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے صورت حال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’’ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا،کوئی باہرنہیں نکلا ہے لیکن باہرنکلنے کا امکان بہت زیادہ ہے‘‘۔

ای ایس پی این نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ میسی سعودی عرب منتقل ہونے پرگہرا غورکر رہے ہیں جس کے تحت وہ کرسٹیانورونالڈو کے النصرکلب کے حریف الہلال میں شامل ہوں گے۔توقع کی جارہی تھی کہ لیونل میسی مارچ میں سعودی عرب کے سیاحتی سفیر کی حیثیت سے آئیں گے۔وہ آخری بار مئی 2022 میں سعودی عرب آئے تھے۔

میسی کے والد اور ایجنٹ جارج میسی کو مارچ میں الریاض میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ فٹ بال کی عالمی چیمپیئن ارجنٹائن کی ٹیم کے کپتان لیونل میسی سعودی کلب کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں۔

میسی نے بارسلونا چھوڑنے کے بعد 2021 میں دو سالہ معاہدے کے تحت پی ایس جی میں شمولیت اختیار کی تھی۔انھوں نے تمام مقابلوں میں پی ایس جی کی طرف سے 67 میچوں میں 29 گول اسکور کیے ہیں اور مزید 32 بنائے ہیں۔

اس وقت پی ایس جی کلب میسی پر سالانہ چارکروڑیورو (43.6 ملین ڈالر) خرچ کررہا ہے۔ دوسری جانب بارسلونا کلب کھلے عام میسی کی حمایت کر رہا ہے اور امید کر رہا ہے کہ وہ انھیں واپس آنے پر راضی کرلے گا جہاں انھوں نے چار چیمپیئنز لیگ ٹائٹل جیتے تھے۔اطلاعات کے مطابق انھوں نے بارسلوناکلب اس وجہ سے چھوڑا تھا کہ وہ ان کے معاہدے کی تجدید کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔

دریں اثنا سعودی عرب میں فٹ بال حالیہ مہینوں میں سرخیوں میں رہا ہے۔اس کی ایک وجہ حال ہی میں پرتگیزی کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کی النصرکلب میں شمولیت ہے۔اس کے علاوہ گذشتہ سال فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے خلاف سعودی ٹیم کی تاریخی فتح ہے۔

سعودی عرب اس سال 12 سے 22 دسمبر تک فیفا کلب ورلڈ کپ کی میزبانی بھی کرے گا۔میسی کی سعودی کلب میں منتقلی ان کوششوں کو مزید آگے بڑھائے گی۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 اصلاحاتی منصوبہ کے تحت سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں کھیلوں میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی نمایاں کوشش کی ہے تاکہ ملکی معیشت کو متنوع بنایا جاسکے اور معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکے۔سعودی عرب فارمولاون جیسے بین الاقوامی مقابلوں کی بھی میزبانی کرتا ہے اور ہائی پروفائل گالف اور باکسنگ پروموشن کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں