"قندھار پہنچیں" طالبان رہنما کی جانب سے میڈیا حکام کو عجیب حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک حیران کن اقدام میں، طالبان کے رہنما، ہیبت اللہ اخوندزادہ نے تحریک کے ترجمانوں اور میڈیا اہلکاروں کو کابل سے قندھار منتقل کرنے کا حکم دیا۔

العربیہ/الحدیث کے نمائندے کے مطابق اخندزادہ نے سرکاری ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو بھی جنوبی افغانستان کے قندھار منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

حکومت پر گرفت مضبوط کرنے کے اقدامات

انہوں نے نیشنل انفارمیشن اینڈ میڈیا سینٹر کے سربراہ انعام اللہ سمنگانی کو اپنی سابقہ ​​ذمہ داریوں کے علاوہ قندھار میں ثقافت اور اطلاعات کا سربراہ بھی مقرر کیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے حکومت پر ان کی گرفت سخت کرنے، میڈیا پر کنٹرول کو آسان بنانے اور تحریک میں تقرریوں کا اعلان کے طریقے کو آسان کرنے کے ساتھ ساتھ افغان میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے اقدامات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

تقسیم اور ناراضی

تاہم کچھ عرصہ سے حکومتی فیصلہ سازی میں اخوندزادہ کی اجارہ داری پر وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سمیت کچھ رہنماؤں کی ناراضگی اور تحریک کے اندر انحراف کی تصدیق ہوئی تھی۔

حقانی نے تحریک کے بانی ملا عمر کے بیٹے وزیر دفاع محمد یعقوب کو ان یک طرفہ فیصلوں کے برعکس، فیصلہ سازی کے لیے شوری کونسل کی تشکیل پر سنجیدگی سے کام کرنے کے لیے دیگر رہنماؤں سے مشاورت کرنے پر بھی آمادہ کیا۔

گذشتہ مہینے، حقانی نے خواتین کی تعلیم پر فیصلوں کے حوالے سے طالبان کے سپریم لیڈر اور الگ تھلگ رہنے والے رہنما پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان کے کندھوں پر ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اس لیے مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا پڑے گا، طالبان کو شہریوں کو اطمینان دلانا چاہیے اور اس طرح کام کرنا چاہیے کہ لوگ طالبان سے نفرت نہ کریں اور پھران کی وجہ سے مذہب سے بھی نفرت نہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں