سعودی خلائی مشن کی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو روانہ ہونے کی تاریخ کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے خلابازوں پرمشتمل ایکزیم مشن (ایکس -2) کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کوروانہ ہونے کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے اور یہ 8 مئی کو مرکزی وقت کے مطابق رات 9:43 بجے لانچ کیا جائے گا۔سعودی خلائی مشن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

سعودی خلائی کمیشن، ناسا، اسپیس ایکس اور ایکزیم اسپیس کی ایک ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران میں مشن کی تاریخ کا اعلان کیا گیا۔

دو سعودی خلابازوں اور مشن کے ماہرین علی القرنی اور ریانہ برناوی کے ساتھ ایکزیم اسپیس کی انسانی خلائی پروازکی ڈائریکٹر پیگی وٹسن اور ہوابازجان شوفنر بھی شامل ہوں گے جو پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔

فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں لانچ کمپلیکس 39 اے سے اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ کا استعمال کرتے ہوئے اسپیس ایکس ڈریگن خلائی طیارے پریہ چاروں روانہ ہوں گے۔

ایکزیم سپیس نے میڈیا کو ایک بیان میں کہا کہ 20 ممالک کے 263 افراد نے آئی ایس ایس کا دورہ کیا ہے جبکہ سعودی عرب چھٹا ملک بن جائے گا جس کے مدار میں گردش کرنے والی لیبارٹری میں بیک وقت دو قومی خلابازکام کریں گے۔

یادرہے کہ سعودی عرب نے اس سے پہلے 1985 میں شہزادہ سلطان بن سلمان کو خلا میں بھیجا تھا۔اس کے 40 سال بعد سعودی عرب کایہ دوسرا خلائی مشن آج سے ٹھیک ایک ماہ روانہ ہوگا۔

ایکس -2 مشن کو حقیقت کاروپ دینے کے لیے، خلابازوں کوسخت تربیت اورتیاری سے گزرنا پڑرہا ہے ،جس میں خلا میں 12دن تک رہنے کے لیے قوت مدافعت کا تجربہ اور انسانی دریافتی تحقیق اینالاگ (ہیرا) میں شرکت شامل ہے ۔یہ ایک کڑاتربیتی پروگرام ہے۔

ناسا جانسن اسپیس سنٹرمیں ہیرامسکن 650 مربع فٹ کا تین منزلہ ڈھانچا ہے۔یہ ہیرا مسکن تلاش کےمنظرنامے میں تنہائی،قیداوردوردرازکے حالات کے لیے زمین پرمبنی تجربے اوراینالاگ کے طور پر کام کرتی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ یہ پرواز اس جامع پروگرام کا ایک اہم سنگ میل ہے جس کا مقصد تجربہ کار سعودیوں کو انسانی خلائی پرواز، سائنسی تجربات، بین الاقوامی تحقیق میں حصہ لینے اور مستقبل میں خلائی مشنوں میں حصہ لینے کی تربیت دینا اور اہل بنانا ہے۔اس کے تجربات سے مستقبل میں سعودی ویژن 2030 کے تحت روانہ ہونے والے خلائی مشن کو بھی فائدہ ہوگا۔

مشن کے ایک حصے کے طورپر،عملہ کے ارکان ڈی این اے نینوتھراپیوٹکس سے لے کرزمین کے نچلے مدار میں کینسر کی تحقیق تک مختلف قسم کے تجربات کریں گے۔ٹیم مائیکرو گریویٹی میں کلاؤڈ سیڈنگ اور اسٹیم سیلز کی پیداوار پر مائیکروگریویٹی کے اثرات کابھی جائزہ لےگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں