بکنگھم پیلس کی شاہی شاخ اور کنگ چارلس کی رہائش گاہ کے بارے میں خفیہ دستاویزات لیک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لندن میں برطانوی شاہی "بکنگھم" پیلس کے اندر سے خفیہ دستاویزات افشا ہونے کی اطلاعات ہیں اور سکیورٹی سروسز اور برطانوی حکام حیران رہ گئے کہ انہیں انٹرنیٹ پر کیسے شائع کیا گیا۔ اس واقعے نے ملک کے الیکٹرانک نظام میں دخول کے بارے میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے۔

برطانوی اخبار (میٹرو) کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘کے مطالعے سےگذری ہے۔ رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر بکنگھم پیلس کے اندرونی کام کو ظاہر کرنے والی خفیہ دستاویزات کو سکیورٹی کی واضح خلاف ورزی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔

خاکوں، اعداد و شمار اور تصاویر نے شاہی رہائش گاہ کی خدمت کرنے والے "بنیادی" کمرے اور رسائی پوائنٹ میں انتظامات کا انکشاف کیا۔ منصوبوں میں محل کےحصوں اور ترتیب کو بھی بیان کیا گیا ہے، کنگ چارلس اور ملکہ کیملا کے نجی اپارٹمنٹس کی قیام گاہیں بھی سامنے لائی گئی ہیں۔

کنگ چارلس III
کنگ چارلس III

سرخ رنگ میں "کلاسیفائیڈ" کا نشان لگا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کمرے اور سوئٹ کیسے جڑے ہوئے ہیں اور اہم حفاظتی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ خفیہ دستاویزات گذشتہ بدھ سے انٹرنیٹ پر دستیاب تھیں لیکن بعد میں انہیں ہٹا دیا گیا، تاہم اس نے اس خلاف ورزی کے حوالے سے تشویش اور سکیورٹی خدشات کی لہر دوڑا دی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں کامیاب ہونے والے ہیکرز نے مزید معلومات حاصل کیں؟ آیا ان کے پاس اور دستاویزات ہو سکتی ہیں جو انہوں نے ابھی تک شائع نہیں کیں؟۔

میٹرو پولیٹن پولیس کے سابق انسداد دہشت گردی کے سکیورٹی کوآرڈینیٹر فلپ گرائنڈل نے کہا کہ ایسی کوئی تفصیلات عوام کو جاری نہیں کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ"ایسا کبھی بھی عوامی سطح پر نہیں ہونا چاہیے تھا"۔ گرائنڈل اب ڈیفیوز کے سی ای او اور بانی ہیں، جو کہ ایک دھمکی اور رسک مینجمنٹ کنسلٹنگ فرم ہے۔

دستاویزات میں میعاد ختم ہونے والے سروس کے دروازوں کو تبدیل کرنے کے نظام کے بارے میں معلومات کے ساتھ ساتھ تالے میں استعمال ہونے والی اقسام اور مواد شامل ہیں، جبکہ سیفٹی لیمپ اور بالائی سطح سمیت دیگر خصوصیات کو بھی دکھایا گیا ہے۔

مقامی حکام نے پہلے قومی سلامتی کی بنیاد پر ایسی دستاویزات جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

نومبر 2022 میں جاری ہونے والے ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے: "اس معلومات کے افشاء سے بین الاقوامی تعلقات، دفاع، قومی سلامتی یا عوامی تحفظ کو نقصان پہنچے گا یا اس کا امکان ہے۔ بکنگھم پیلس شاہی خاندان کے سینیر افراد کی رہائش گاہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں