ایران نے ہتھیار متاثرین زلزلہ کے لیے امدادی سامان میں چھپا کر شام منتقل کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران اور اس کے پراکسی گروپ فروری میں شام اور ترکی میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے لیے بھیجی گئی انسانی امداد کے اندر چھپائے ہوئے ہتھیاروں کے ذریعے شام میں امریکی فوجیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف امریکی جریدے " واشنگٹن پوسٹ" نے اتوار کے روز خفیہ امریکی دستاویزات کے حوالے سے کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے حاصل کردہ امریکی انٹیلی جنس معلومات میں ایسے نتائج شامل ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امریکی اہلکاروں، معاون افواج اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے معمول کے مطابق استعمال کیے جانے والے ایرانی ہتھیاروں کو روکنے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی صلاحیت کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
افشا ہونے والے نتائج نے تباہ کن زلزلے کے بعد شام کو امدادی سامان کی ترسیل میں اسلحہ چھپانے کی ایران کی مبینہ کوششوں کی سابقہ خبروں کو بھی تقویت بخشی ہے۔

افشا ہونے والی معلومات میں امریکی انٹیلی جنس کا یہ اندازہ بھی شامل ہے کہ شام میں ایران کی جانب سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں چھوٹے ہتھیار، گولہ بارود اور ڈرون شامل تھے۔
اس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اسمگل شدہ ہتھیاروں کی ترسیل عراق سے گاڑیوں کے قافلوں کے ذریعے کی گئی تھی جو وہاں موجود "دوست عسکریت پسند گروپوں" اور قدس فورس کے زریعے ہوئی- یہ ایرانی پاسداران انقلاب کا دستہ ہے جو خطے میں ایران کی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں کو مادی مدد فراہم کرتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں ایک امریکی دفاعی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس قسم کی ایرانی سرگرمیاں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کی ماضی کی کوششوں مطابق ہیں جب انہوں نے اپنے حمایتی گروپوں کو ہتھیار پہنچانے کے لیے عراق اور شام جانے والی انسانی امداد کا استعمال کیا تھا۔"

لیک ہونے والی امریکی انٹیلی جنس کے مطابق، ایران اور اس سے ملحقہ ادارے زلزلے کے فوری بعد تیزی سے متحرک ہو گئے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ نے لیک ہونے والی انٹیلی جنس دستاویزات کے مطابق لکھا ہے کہ "7 فروری کو... عراق میں مقیم ایک ملیشیا گروپ نے مبینہ طور پر شام میں امریکی افواج پر مستقبل کے حملوں میں مدد کے لیے امدادی قافلوں میں چھپے ہوئے رائفلیں، گولہ بارود اور 30 [ڈرونز] کی منتقلی کا منصوبہ بنایا"۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 13 فروری کو قدس فورس کے ایک افسر نے ایک عراقی ملیشیا گروپ کو ہدایت کی کہ وہ "زلزلہ سے متعلق جائز امداد کے اندر ہتھیاروں کو شامل کریں"، جب کہ ایک اور قدس فورس کے افسر نے زلزلے کے بعد عراق سے شام میں داخل ہونے والی "سینکڑوں" گاڑیوں اور سامان کی فہرست استعمال کی۔

امریکی حکام کے مطابق، ایران سے وابستہ گروہ شام میں داعش سے بر سر پیکار تقریباً 900 امریکی فوجیوں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔

مارچ میں، ایک امریکی کنٹریکٹر شام میں ایک اڈے پر ایرانی ساختہ ڈرون حملے میں مارا گیا تھا، دھماکے کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجیوں کے سر پر چوٹیں بھی آئیں۔

تاہم امریکی حکام نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا تھا کہ ڈرون کسی امدادی قافلے کے ذریعے ملک میں نہیں لایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں