سعودی ویژن 2030

بحیرۂ احمر میں سیاحتی مقام کی سعودی ڈویلپرکمپنی کا 2026 تک عوامی پیش کشوں پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں بحیرۂ احمر کے ساحل پرایک اہم سیاحتی مقام کی تعمیروترقی میں کارفرما کمپنی 2026 تک ممکنہ طور پراسٹاک مارکیٹ کے ذریعے حصص کی عوامی پیش کش پرغورکر رہی ہے۔یہ منصوبہ سیاحوں کو راغب کرنے اور سعودی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں میں ایک سنگ میل کی اہمیت کا حامل ہے۔

ریڈ سی گلوبل (بحیرۂ احمرگلوبل) کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جان پگانو نے دبئی میں سوموار کوایک انٹرویو میں کہا:’’کسی نہ کسی طرح کی عوامی مارکیٹ کی تقریب ہوگی، چاہے وہ ابتدائی عوامی پیش کش ہو،خواہ وہ آر ای آئی ٹی کا قیام ہو، یہ وہ چیزیں ہیں جن کا ہم فی الحال جائزہ لے رہےہیں‘‘۔

پگانونے مشیروں، بینکوں یاقدری تعیّن کے بارے میں تفصیل ظاہرکیے بغیرکہاکہ فرم بینکوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ابتدائی بات چیت کر رہی ہے۔امکان ہے کہ 2026 یا 2027 تک ایک پیش کش کی جائے گی جبکہ منصوبے کے تحت قائم کیے جانے والے ہوٹل قریبا دو سال تک فعال ہوجائیں گے ، جس میں رہائش، نقدرقوم کا بہاؤ اور منافع کا ٹریک ریکارڈ ہوگا۔انھوں نے کہا کہ فی الوقت بنیادی توجہ آمدن کے پائیدار بہاؤ پر ہے اور یہ قدرکومستحکم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

پگانونےکہا:’’اگرآپ دنیابھرمیں رئیل اسٹیٹ مارکیٹوں کودیکھیں توسرکاری رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کا خیال کافی حد تک غائب ہوگیا ہے۔ہر کوئی آر ای آئی ٹی میں تبدیل ہو گیا ہے، بڑے پیمانے پر ٹیکس کی کارکردگی کی وجہ سے،لیکن اس لیے بھی کہ یہ آپ کوسرمایہ کاروں کی ایک وسیع کائنات تک رسائی مہیّا کرتا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ بحیرۂ احمرکے منصوبہ کااعلان پہلی بار2017 میں کیا گیا تھا، 28،000 مربع کلومیٹر (11،000 مربع میل) پرمحیط ہے- یہ بیلجیئم کے رقبے کے برابرہے اورعلاقائی اور بین الاقوامی لگژری مسافروں کو نشانہ بنائے گا۔ بحیرہ احمر کے ساحل میں 90 جزائر کا جزیرہ نما شامل ہے اور حکومت اس خطے میں نئے ریزورٹس تعمیرکر رہی ہے، ساتھ ہی ساتھ یمن کے قریب جنوب میں سبز پہاڑوں پربھی تعمیرات کی جارہی ہیں۔

بحیرہ احمر کا منصوبہ سعودی عرب کے خود کو سیاحت کے ایک سرفہرست مقام میں تبدیل کرنے کے منصوبوں کی کلیدہے۔اپنے پرعزم اہداف کے حصول میں مدد کے لیے مملکت نے اربوں ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس میں ایک نئی فضائی کمپنی اور ایک نئے ہوائی اڈے کا قیام بھی شامل ہے۔ وہ دارالحکومت کے قریب ایک تفریحی مرکز اور شمال مغرب میں نیوم کے نام سے نیاجدید سہولتوں اورٹیکنالوجی سے آراستہ شہربسارہا ہے۔اس پر 500 ارب ڈالر کی لاگت آنے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے خودمختار دولت فنڈ نے 2021 میں ریاستی کنٹرول کے حامل دو ڈویلپرز کے ادغام سے بحیرہ احمر گلوبل کمپنی قائم کی تھی۔بحیرہ احمر کے منصوبے کا پہلا مرحلہ 2024 کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے اور اس میں ہوٹل اور ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا شامل ہوگا۔

کمپنی نے 2021 میں 14.1 ارب ریال (3.8 ارب ڈالر) قرض لیا تھا اور یہ پہلے مرحلے کی تعمیر کے لیے فنڈز مہیا کرے گی۔پگانو نے کہا کہ کمپنی کو اس وقت تک فنڈز جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی جب تک کہ وہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کی ترقی شروع نہیں کرتی ہے۔

اس سال بحیرۂ احمر پرتین ریزارٹس اور 2024 میں 13 ریزورٹس کھلیں گے۔امالامیں دیگر منصوبہ بند املاک کے علاوہ کئی ایک ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے،اس سے سعودی عرب کے مغربی ساحل پر ہوٹلوں کے قریباً 4،200 کمروں کا اضافہ کریں گے۔

سعودی عرب کی سیاحتی صنعت تاریخی طور پر لاکھوں زائرین پر مشتمل ہے۔وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اسلام کے مقدس ترین مقامات کاسفر کرتے ہیں۔جان پگانو کے مطابق اگر ان زائرین میں سے ایک چھوٹا سا حصہ اپنے قیام میں توسیع کرے اور مملکت کے دیگرحصوں کا دورہ کرے تو یہ ایک اہم فیڈر مارکیٹ مہیاکرسکتا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ان میں سے کچھ سیاح زندگی میں ایک بارسفرکر رہے ہیں اور آج وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔جب ہم اپنی منزلیں کھولتے ہیں، تو ان کے پاس اصل میں اسے زندگی میں ایک بارسفر بنانے کی ایک وجہ ہوتی ہے: مذہبی پہلوکا خیال رکھیں، جو واضح طور پران کے لیے اہم ہے، لیکن اس میں تفریحی جزو بھی شامل ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں