روس اور یوکرین

جنگ ہو یا حکومت کا خاتمہ، ایک خفیہ محل پوتین کی حفاظت کرتا رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے روسی صدر پوتین کی سلامتی کریملن کے لیے ہر غور و فکر سے پہلے آگئی ہے۔ یہ احتیاط چند ہفتے قبل ماسکو کی جانب سے یوکرین کے ڈرونز کے ساتھ مبینہ "قاتلانہ اقدام" کے اعلان کے بعد دوگنا ہو گئی ہے۔

انٹیلی جنس کے کام میں برسوں کا تجربہ رکھنے والے کریملن کے سربراہ پوتین اب اپنی ذاتی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں اور اس موضوع کی حساسیت سے آگاہ ہیں۔ اسی لیے انہوں نے بحیرہ اسود کے ساحل پر ایک زیر زمین رہائشی کمپلیکس بنایا ہے۔ کسی بھی بڑی جنگ یا حکومت کے خاتمے کی صورت میں وہ وہ اور ملک کے دیگر رہنما اس محل میں محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس محل کی کچھ تصاویر سامنے آئی ہیں۔

ٹیلی گراف اخبار کے مطابق ان تصاویر میں گلینڈزیک شہر میں بحیرہ اسود کے نظارے والے محل کے نیچے واقع ایک کمپلیکس کے مناظر دکھائے گئے تھے جسے روسی رویرا کہا جاتا ہے۔ اس محل کی لاگت ایک بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے کیونکہ اس میں سرنگوں اور وینٹیلیشن کا نیٹ ورک بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ محل 38 سینٹی میٹر موٹی کنکریٹ کی دیواروں سے محفوظ ہے۔

انجینئرنگ کے منصوبوں اور فضائی تصاویر نے کمپلیکس کی ساخت کو دکھایا ہے۔ اس محل کا انکشاف پہلی مرتبہ 2021 میں قید روسی مخالف الیکسی ناوالنی کے حامیوں نے کیا تھا۔

تصاویر نے ہنگامی حالات میں استعمال ہونے کے لیے اندر برقی لفٹوں سے منسلک سرنگوں کا نیٹ ورک بھی دکھایا ہے۔ سرنگیں کمپلیکس کو ساحل پر ایک نجی گھاٹ سے جوڑتی ہیں جہاں سے بڑے جہاز مل سکتے ہیں۔

یوٹیوب پر ناوالنی کی معاونین کی ٹیم کی طرف سے شائع ہونے والی ایک دستاویزی فلم میں محل کے بارے میں بہت سی معلومات اور اس کے نیچے موجود سہولیات کو دکھایا گیا۔ انہوں نے اس کی تمام تفصیلات کو فلمانے کے لیے محل اور کمپلیکس دونوں پر پرواز کرنے والے ڈرونز کا استعمال کیا۔ محل میں تھیٹر، ریڈی میڈ سٹیڈیم اور دیگرسہولیات موجود ہیں۔ سطح زمین سے تقریباً 50 میٹر کی گہرائی میں دو سرنگیں بھی موجود ہیں۔

پوتین کا محل

محل سے محفوظ انخلا کا انتظام

ویڈیو میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اوپری سرنگ 40 میٹر تک پھیلی ہوئی ہے جس کی چوڑائی 6 میٹر ہے جب کہ نچلی سرنگ تقریباً 60 میٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ شروع میں دائیں جانب ایک لفٹ سے منسلک ہیں۔

مغربی اخبارات کے ذریعہ شائع کردہ انجینئرنگ منصوبوں کے مطابق دونوں سرنگوں کی لمبائی تقریباً 40 سے 60 میٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ ہر ایک کی چوڑائی تقریباً 6 میٹر ہے۔ اس بات کے شواہد بھی دستیاب ہیں کہ یہ دونوں سرنگیں دھماکہ خیز مواد ہیں۔ نچلی سرنگ میں ایک حرکت پذیر دیوار شامل ہے جسے ساحل پر باہر نکلنے کے لیے ہٹایا جا سکتا ہے۔ فوجی تعمیراتی انجینئرتھاڈیوس گابرزیوسکی نے بتایا کہ اس طرح سے سرنگوں کا ڈیزائن اعلیٰ ترین معیار اور حفاظت کی شرح کی ضمانت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ ڈرائنگ 2010 میں اس کمپنی نے شائع کی تھی جس نے محل کو ڈیزائن کیا تھا۔ کمپنی سیکٹزی نے اعلان کیا کہ اس نے اسے شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس نے پوٹین کے چہرے سے بوریت محسوس کی تھی۔

واضح رہے اس محل کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے کیونکہ اس کا انکشاف 2021 میں پہلی مرتبہ اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی نے کیا تھا۔ اپوزیشن لیڈر ہزاروں روسیوں کو احتجاج کے لیے سڑکوں لے آئے تھے۔ خاص طور پر بعض افراد نے اس عمارت میں سونے کی تہ والے ٹوائلٹ کی موجودگی کا اشارہ دیا تھا۔ اسی طرح اس عمارت میں 700 پاؤنڈ کے برتن ملنے کا بتایا گیا تھا۔ اس وقت پوٹین نے محل کے مالک ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ محل 17,000 ایکڑ جنگل کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں