کیا فرعون کے تابوت کو جانچ کے لیے اسرائیل منتقل کیا گیا؟ مصرنے حقیقت بتا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر نے سرکاری طور پر ان خبروں کی تردید کردی ہے کہ کسی فرعونی تابوت کو اسرائیل کو جانچ کے لیے بھیجا گیا۔ سپریم کونسل آف نوادرات کے عجائب گھروں کے شعبے کے سربراہ مومین عثمان نے اتوار کے روز کہا کہ مصری عجائب گھروں میں سے کسی بھی نمونے کو جانچنے یا مطالعہ کے لیے بیرون ملک نہیں بھیجا گیا۔ انہوں نے اس بات کی تردید کردی کہ حال ہی میں مصری عجائب گھر سے فرعونی تابوت کا غلاف اسرائیل منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے سی ٹی سکین کے لیے تابوت بھیجنے کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر کی تردید کر دی۔

سوشل میڈیا پر پھیلی خبر میں بتایا گیا تھا کہ ہزاروں سال پرانے تابوت کو یروشلم کے شائر زیڈک ہسپتال میں سی ٹی اسکین کے لیے منتقل کیا گیا تھا۔ اس خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تابوت کے ڈھکنوں کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ اس ورک کی نشاندہی کی جا سکے جو کاریگروں نے ہزاروں سال قبل کور بنانے کے دوران انجام دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں