قرضوں کی حد؛امریکی صدربائیڈن اورہاؤس اسپیکر میکارتھی کے درمیان عبوری سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی صدر جو بائیڈن اور ایوان نمایندگان کے ری پبلکن اسپیکر کیون میکارتھی نے ہفتے کی شب وفاقی حکومت کی جانب سے314کھرب (31.4 ٹریلین) ڈالر کے قرضوں کی حد کو معطل کرنے کے لیے ایک عارضی سمجھوتے پر دست خط کردیے ہیں جس کے بعد کئی ماہ سے جاری تعطل ختم ہوگیا ہے۔

مگراس ڈیل کا اعلان کسی جشن کے بغیر کیا گیا ہے جس سے مذاکرات کی تلخی اور جون کے اوائل میں امریکاکے پاس اپنے قرضوں کی ادائی کے لیے رقم ختم ہونے سے پہلے اس کی کانگریس سے منظوری کے مشکل راستے کی عکاسی ہوتی ہے۔

صدر جوبائیڈن نے ایک بیان میں اس معاہدے کوایک اہم پیش رفت' قرار دیتے ہوئے کہا:’’یہ معاہدہ ایک سمجھوتے کی نمائندگی کرتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ہر کسی کو وہ نہیں ملتا جو وہ چاہتا ہے۔ یہ حکومت کی ذمے داری ہے‘‘۔

اس معاہدے کے تحت جنوری 2025 تک قرضوں کی حد معطل کردی جائے گی جبکہ 2024 اور 2025 کے بجٹ میں اخراجات کو محدود کیا جائے گا، غیر استعمال شدہ کووِڈ-19 کے فنڈز کو واپس لیا جائے گا، توانائی کے کچھ منصوبوں کی اجازت کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور غریب امریکیوں کے لیے غذائی امداد کے پروگراموں میں کچھ اضافی کام کی ضروریات بھی شامل ہوں گی۔

بائیڈن اور میکارتھی نے معاہدے پرہفتے کی شب 90 منٹ تک فون پر بات چیت کی، میک کارتھی نے اپنے ارکان کو بریفنگ دی اور وائٹ ہاؤس اورایوان نمایندگان کے اسپیکر نے بعد میں پھربات چیت کی۔

میکارتھی نے کیپٹول ہل میں نامہ نگاروں کو بتایا:’’ہمیں ابھی اس کی تحریر کو مکمل کرنے کے لیے مزید کام کرنا ہے۔وہ توقع کرتے ہیں کہ بل کی تحریر اتوار کو مکمل ہوجائے گی، پھر بائیڈن سے بات کریں گے اور بدھ کو معاہدے پر ووٹنگ ہوگی‘‘۔

بائیڈن اور میکارتھی کو احتیاط کے ساتھ ایک ایسا سمجھوتا طےکرنے کی ضرورت ہے جس کو ایوان نمائندگان میں منظوری مل سکے جہاں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔اس کے ارکان کی تعداد 222اور ڈیموکریٹس کی 213 ہے جبکہ سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔اس کے 51اور ری پبلکن پارٹی کے 49 ارکان ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صدر کے دست خط سے پہلے معاہدے کو دو طرفہ حمایت کی ضرورت ہوگی۔

معاہدے سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات کاروں نے غیر دفاعی صوابدیدی اخراجات کو ایک سال کے لیے 2023 کی سطح پر محدود کرنے اور 2025 میں اس میں ایک فی صد اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ معاہدہ معاشی طور پر عدم استحکام پیدا کرنے والے ڈیفالٹ کو اس وقت تک ٹال دے گا جب تک کہ یہ اسے محدود طور پر منقسم کانگریس سے گزرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اس سے پہلے کہ محکمہ خزانہ کے پاس اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے رقم کی کمی ہے، جس کے بارے میں اس نے جمعہ کوخبردار کیا تھا کہ اگر قرضوں کی حد کا مسئلہ 5 جون تک حل نہیں کیا گیا تو دیوالا نکل جائے گا۔

ایوان نمائندگان پر کنٹرول رکھنے والے ری پبلیکن ارکان نے اخراجات اور دیگر مصارف میں بھاری کٹوتی پر زور دیا ہے اور ابتدائی تفصیل سامنے آنے کے بعد وہ اس معاہدے پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

قدامت پسند ایوان نمائندگان فریڈم کاکس کے رکن اور ریپبلکن نمائندے باب گڈ نے ٹویٹ کیا کہ ’’وہ سن رہے ہیں کہ اس معاہدے سے قرضوں میں چالیس کھرب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔اگر یہ سچ ہے تو مجھے کچھ اور سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ قدامت پسند ہونے کا دعویٰ کرنے والا کوئی بھی شخص ہاں کے ووٹ کا جواز پیش نہیں کر سکتا‘‘۔

ری پبلکنز کا کہنا ہے کہ وہ امریکی قرضوں کی نمو کو سست کرنے کے لیے اخراجات میں کمی کرنا چاہتے ہیں، جو اب ملک کی معیشت کی سالانہ پیداوار کے قریباً برابر ہے۔صدر بائیڈن اور ڈیموکریٹس نے دولت مندوں اور کمپنیوں پر ٹیکس بڑھانے پر زور دیا ہے تاکہ قرضوں کو کم کیا جا سکے جبکہ مفت کمیونٹی کالج جیسے پروگراموں پر اخراجات میں اضافہ کیا جا سکے۔

قرضوں کی حد بڑھانے کے طویل تعطل نے مالیاتی منڈیوں کو پریشان کر دیا، اسٹاک پر بوجھ ڈالا اور امریکا کو کچھ بانڈز کی فروخت میں ریکارڈ بلند شرح سود ادا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ڈیفالٹ سے ملک کو کساد کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت ہل کر رہ جائے گی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

خود صدربائیڈن نے کئی ماہ تک میکارتھی کے ساتھ مستقبل میں اخراجات میں کٹوتی کے بارے میں بات چیت کرنے سے انکار کیا تھا اور مطالبہ کیا کہ قانون ساز پہلے دیگر شرائط سے آزاد قرضوں کی حد میں اضافے کی ’’صاف‘‘ منظوری دیں اور مارچ میں جاری کیے گئے اپنے بجٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے 2024 کے بجٹ کی تجویز پیش کریں۔بائیڈن اور میکارتھی کے درمیان دو طرفہ مذاکرات 16 مئی کو شروع ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں