بڑھتی کشیدگی میں آسٹن کا چینی ہم منصب کے ملنے سے انکار پر اظہار "افسوس"

چینی لڑاکا طیاروں کی طرف سے امریکی فوجی طیارے کے قریب "اشتعال انگیز" مشقیں کی گئیں: امریکی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعرات کو ٹوکیو کے دورے کے دوران اپنے چینی ہم منصب لی چانگ فو کے اس ہفتے ان سے ملاقات کرنے سے انکار پر اپنے "افسوس" کا اظہار کیا۔ خاص طور پر ایسا چینی لڑاکا طیاروں کی طرف سے امریکی فوجی طیارے کے قریب حالیہ "اشتعال انگیز" مشقوں کی روشنی میں کیا گیا۔

آسٹن نے ٹوکیو میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا "میرے خیال میں یہ بدقسمتی کی بات ہے" ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چینی لڑاکا طیاروں کی طرف سے حالیہ "اشتعال انگیز مداخلت" کے بعد میں کسی ایسے جلد قابو سے باہر ہوجانے والے حادثہ کے امکان کے متعلق زیادہ فکر مند تھا۔

پیر کے روز پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ بیجنگ نے سنگاپور میں دفاعی سربراہی اجلاس کے موقع پر رواں ہفتے امریکی اور چینی وزرائے دفاع کے درمیان ملاقات کی امریکی دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔

جواب میں بیجنگ نے اپنے ترجمان کے ذریعے یہ کہا تھا کہ امریکہ واضح طور پر فوجی مواصلات میں موجودہ مشکلات کی وجہ جانتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے جاپان میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ آپ نے مجھے کئی بار ایسے ممالک کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا ہے جن کے پاس بڑی صلاحیتیں ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے بات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بحرانوں کو سنبھال سکیں اور چیزوں کو غیر ضروری طور پر قابو سے باہر ہونے سے روک سکیں۔ چین کی ہمارے اور ہمارے اتحادیوں کے طیاروں کے قریب حالیہ اشتعال انگیز مداخلت انتہائی پریشان کن ہیں۔ انہوں نے کہا امید ہے کہ وہ اپنی حرکتیں بدل لیں گے۔ لیکن چونکہ انہوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے، اس لیے میں پریشان ہوں کہ کسی موقع پر ایسا حادثہ رونما ہو جائے جو بہت جلد قابو سے باہر ہو جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں