وزیر اعظم شہباز شریف کی ترک کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیر اعظم شہباز شریف نے ترک سرمایہ کاروں اور تاجروں کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دے دی۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ترکیہ جانے والے وزیر اعظم شہباز شریف نے وہاں متعدد کمپنیوں کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

ان کے دورہ کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے میں تعاون کیلئے مشترکہ منصوبوں کو حتمی شکل دینا ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کی معروف کمپنی لیماک ہولڈنگز کی چئیرپرسن ایبرو اوزدمیر نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر، سیاحت اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف ترکیہ کے دو روزہ دورہ پر ہیں، جن سے ترکیہ کی معروف کمپنی لیماک ہولڈنگز کی چئیرپرسن ایبرو اوزدمیر نے ملاقات کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایبرواوزدمیر پاکستان میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے براہ راست بات چیت کے لئے جلد پاکستان کا دورہ کریں گی۔

ملاقات میں ایبرو اوزدمیر نے گلوبل انجینئرنگ گرلز (جی ای جی) پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیلات کا بھی تبادلہ کیا۔گلوبل انجینئرنگ گرلز پراجیکٹ نیکسٹ جنریشن کی خواتین انجینئرز، لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم، رہنمائی اور کیریئر کے مواقع فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔پاکستان میں یہ منصوبہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی انجینئرنگ اور ریاضی میں خواتین اور لڑکیوں کو تجربہ فراہم کرے گا اور انہیں اپنا کیریئر بہتر بنانے کے قابل بنائے گا۔

انادولو گروپ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور پاکستانی لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنے پر اس گروپ کی حوصلہ افزائی کی۔

علاوہ ازیں انہوں نے توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور تعمیرات کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون قائم کرنے پر زور دیا۔

ان ملاقاتوں کا محور تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے پر ہی مرکوز رہا تاکہ پاکستان میں دستیاب مواقع سے زیادہ سے زیادہ باہمی فائدے سمیٹے جا سکیں اور ترکیہ کے کاروباری اداروں کی براہ راست موجودگی اور پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے معیشت کے اہم شعبوں میں تعاون کو بڑھایا جا سکے۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے گزشتہ برس اگست میں تاریخی ’ٹریڈ ان گڈز ایگریمنٹ‘ پر دستخط کیے جانے کے بعد (جو یکم مئی سے شروع ہوا) سے دونوں ممالک کے درمیان روایتی اور غیر روایتی مصنوعات کی تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے ان مواقع سے مؤثر استفادہ حاصل کرنے کے لیے ترک کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور انہیں مکمل سہولت اور سازگار کاروباری ماحول کی یقین دہانی بھی کراوئی۔

وزیراعظم نے ترکیہ کی سرکردہ کمپنیوں سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں آرسیلک، زورلو، البیرک، لیماک، ڈولسر، انادولو گروپ، ترک کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن اور پاک یتریم شامل ہیں۔

ترک کمپنیوں نے وزیراعظم کو سرمایہ کاری کے لیے اپنے موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا، زورلو گروپ کے سنان اک کے ساتھ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے ہوا اور شمسی توانائی سے متعلق منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

البیراک گروپ کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز احمد البیرک نے وزیراعظم کو سستے ہاؤسنگ پراجیکٹس، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، کچرے سے بجلی کی پیداوار اور ٹریکٹر انڈسٹری میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کے بارے میں بتایا، وزیراعظم نے البیرک گروپ کے منصوبوں کو سراہا۔

ترک کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملک کے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

چیئرمین ڈولسر انجینئرنگ عرفان آکر نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران پاکستان کے توانائی اور تعمیراتی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، معاونِ خصوصی طارق فاطمی، پاکستان کے ترکیہ میں سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نےبھی شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں