روس اور یوکرین

روس کےعلاقے میں دو ڈرون تباہ، کیئف کی ایک دن میں 60 بار ڈونیٹسک پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج اتوار کو یوکرین میں روسی فوجی آپریشن جاری ہے۔ یوکرینی اور روسی افواج کے درمیان پرتشدد تصادم کی اطلاعات ہیں۔ دوسری طرف یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی روس کو یوکرین کے جوابی حملے کی دھمکی دی ہے تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

محاذ جنگ سے تازہ ترین پیش رفت میں یہ خبر ملی ہے کہ روسی کالوگا علاقے کے گورنر نے "ٹیلیگرام" ایپلی کیشن پر کہا ہے کہ اس علاقے میں آج صبح دو ڈرون گر کر تباہ ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے ایک اسٹریلوکوکا گاؤں کے قریب اور دوسرا میڈنسکی ضلع کے جنگلات کے بیچ میں گرکر تباہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں ڈرونز کے گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس کے ساتھ ہی یوکرین کے جنگی جرائم سے متعلق معاملات کی نگرانی اور رابطہ کاری کے عوامی جمہوریہ ڈونیٹسک کے نمائندہ دفتر نے اطلاع دی ہے کہ یوکرین کی افواج نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جمہوریہ کی سرزمین پر 35 بار بمباری کی اور مختلف حجم کے 222 گولے داغے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس کی ’سپوتنک‘ نیوز ایجنسی کے مطابق گذشتہ روز یوکرین کی مسلح تنظیموں کی طرف سے 18 مقامات پرتوپ خانے کی گولہ باری کی گئی تھی۔

روسی صوبے بیلگوروڈ کے گورنر نے یوکرین کے ساتھ سرحدی علاقے میں ریلوے سے 15 مال بردار کاروں کی روانگی کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرین خالی ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ٹرینوں کی آمدورفت میں خلل نہیں پڑا۔

دوسری طرف یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تسلیم کیا کہ فوج "جوابی حملہ" اور دفاعی کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کے ایک بیان کے دن بعد کہا کہ کیف کی اپنی زمینوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے طویل عرصے سے زیر بحث مہم زوروں پر ہے۔

یوکرین کے عسکری قائدین کے حوصلے بلند ہیں

صدر زیلنسکی نے روس کے خلاف جوابی حملے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کو یہ پیغام دیں کہ یوکرین کی عسکری قیادت اورسپاہیوں کے حوصلے بلند ہیں۔

زیلنسکی نے کیئف میں ایک نیوز کانفرنس میں روسی صدر پوتین کے جمعے کے روز اس بیان پر تبصرہ کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کیف کی افواج نے جوابی کارروائی شروع کی ہے لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

زیلنسکی نے یوکرین کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کا نام لے کر کہا کہ"جوابی اور دفاعی کارروائیاں یوکرین میں ہو رہی ہیں، لیکن میں اس بارے میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ یہ کس مرحلے تک پہنچی ہیں۔"

انہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ مزید کہا کہ "وہ سب پر امید ہیں۔ انہوں نے یہ پیغام پوتین کو بھیجا۔ اس پریس کانفرنس میں غیر اعلانیہ دورے پر آئے کینیڈین جسٹن ٹروڈو بھی موجود تھے۔

اپنی ریکارڈ شدہ تقریر میں زیلنسکی نے فوجیوں کو لڑائی جاری رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے کچھ تفصیلات پیش کیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں