بھارت میں شدید گرمی سے 34 افراد ہلاک، معمر شہریوں کو گھر میں رہنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انڈیا میں گذشتہ دو دنوں میں گرمی سے کم از کم 34 افراد ہلاک ہوگئے، کیونکہ شمالی ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کا ایک بڑا حصہ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، حکام نے ہفتہ کو بتایا کہ طبی ماہرین نے 60 سال سے زیادہ عمر کے شہریوں کو دن کے وقت گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔


مرنے والوں کی عمر 60 سال سے زیادہ تھی اور ان میں صحت کے مسائل پہلے سے موجود تھے جو شدید گرمی کی وجہ سے بڑھ گئے۔ یہ اموات اتر پردیش کے ریاستی دارالحکومت لکھنؤ سے تقریباً 300 کلومیٹر (200 میل) جنوب مشرق میں بلیا ضلع میں ہوئیں۔

بلیا کے چیف میڈیکل آفیسر جینت کمار نے بتایا کہ جمعرات کو تئیس اموات ہوئیں اور جمعہ کو مزید 11 افراد ہلاک ہوگئے۔

جینت کمار نے ہفتہ کو دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، "تمام افراد پہلے سے ہی کچھ بیماریوں میں مبتلا تھے اور شدید گرمی کی وجہ سے ان کی حالت مزید خراب ہو گئی تھی۔" انہوں نے کہا کہ زیادہ تر اموات ہارٹ اٹیک، برین اسٹروک اور ڈائریا کی وجہ سے ہوئیں۔

ایک اور میڈیکل آفیسر دیواکر سنگھ نے بتایا کہ ان لوگوں کو تشویشناک حالت میں بلیا کے مرکزی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ معمر افراد شدید گرمی کا شکار ہوتے ہیں۔

ہندوستان کے محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق "بلیا" میں جمعہ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.2 ڈگری سیلسیس (108 ڈگری فارن ہائیٹ) ریکارڈ کیا گیا، جو کہ معمول سے 4.7 سینٹی گریڈ (8 فارن ہائیٹ) زیادہ ہے۔

چلچلاتی گرمی سے ریاست بھر میں بجلی کی بندش کا سلسہ بڑھ گیا۔

اس صورت حال پر بہت سے لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت ریاست میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور بجلی کا درست استعمال کریں۔

"ہر گاؤں اور ہر شہر کو اس شدید گرمی کے دوران مناسب بجلی کی فراہمی ہونی چاہیے۔ اگر کوئی خرابی ہوتی ہے، تو انہیں فوری طور پر دور کیا جانا چاہئے،" انہوں نے جمعہ کی رات ایک بیان میں کہا۔

مون سون سے پہلے موسم گرما کے اہم مہینے - اپریل، مئی اور جون - عام طور پر ہندوستان کے بیشتر حصوں میں گرم ہوتے ہیں۔تاہم، پچھلی دہائی سے درجہ حرارت شدید تر ہو گیا ہے۔ گرمی کی لہروں کے دوران، ملک کو عام طور پر پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انڈیا کے 1.4 بلین لوگوں میں سے لاکھوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔

اپریل میں، بھارت کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی میں ایک سرکاری تقریب میں گرمی کی وجہ سے 13 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد کچھ ریاستوں میں ایک ہفتے کے لیے تمام اسکول بند کر دیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں