روس اور یوکرین

’اب معمول کا کام نہیں ہوگا،صحافیوں سے رویّہ دیکھیں گے‘:روس کا مغربی میڈیا کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس مغرب کے صحافیوں کو اپنے یہاں بڑے فورمز کی کوریج کے لیے تسلیم کرنے کا فیصلہ کرتے وقت مغربی میڈیا کے روَیّے اور بیرون ملک روسی صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے روَیّے کو مدنظر رکھے گا۔

روس جن ممالک کو 'غیر دوستانہ' قرار دیتا ہے، ان ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو کریملن کی طرف سے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کی کوریج کے لیے منظوری نہیں ملی۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق دمتری پیسکوف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ماسکو مستقبل میں مغربی صحافیوں کو ملک میں ہونے والے فورمز میں شرکت کی اجازت دے گا مگر ہم دیکھیں گےکہ صورت حال کیا بنتی ہے اور وہ (غیر ملکی میڈیا) کس طرح برتاؤ کریں گے۔

پیسکوف نے مزید کہا کہ ایکریڈیٹیشن دینے کا معاملہ اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ ’’روسی صحافیوں کے ساتھ 'غیر دوستانہ' ممالک میں کیا سلوک کیا جاتا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ ماسکو اس لیبل کو ان ممالک کے لیے استعمال کرتا ہے جنھوں نے یوکرین میں 'خصوصی فوجی آپریشن' کے ردعمل میں روس پر پابندیاں عاید کی تھیں۔

کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’’سب کچھ غیر ملکی اور غیر دوستانہ ممالک میں ہمارے صحافیوں سے پیش آنے والے رویّے پر منحصر ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اب معمول کے مطابق کاروبار نہیں ہوگا۔ ہم ان (مغربی صحافیوں) کا استقبال کرنے کو تیار ہیں، لیکن ہم بیرون ملک اپنے صحافیوں کے ساتھ اس طرح کے ناروا سلوک کو برداشت نہیں کریں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں