لاپتا آبدوز بیرونی دباؤ کی وجہ سے’ایمپلوژن‘ کا شکار ہوئی ہوگی:ماہرین

ٹائی ٹینک کے ملبے کو دیکھنے کے مشن پر جانے والی آبدوز کو لاپتا ہوئے چار دن بیت چکے ہیں۔ تلاش کی تمام کوششیں تا حال ناکام ہیں اور گم شدہ مسافروں کے بارے میں تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بحر اوقیانوس میں ہزاروں فٹ کی گہرائی میں ڈوبے مسافر بحری جہاز’ٹائی ٹینک‘ کے ملبے کی تلاش کے لیے جانے والی آبدوز اس میں سوار پانچ مسافروں کے لاپتا ہوئے آج چوتھا دن ہے۔ اگر وہ کل جمعرات کو بھی نہیں مل پاتے تو ان کی زندگی یقینی کسی خطرے سے دوچار ہوچکی ہوگی کیونکہ ان کے پاس آکسیجن صرف جمعرات تک کے لیے ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ بحر اوقیانوس کے پانیوں کے نیچے 3800 میٹر کی گہرائی میں ڈوبے "ٹائی ٹینک" کے ملبے کے قریب آبدوزمیں یہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے آکسیجن ہی زندگی بچانے کا ذریعہ ہوسکتی ہے۔ اگر ان کے پاس تیراکی کے دوران آکسیجن کا ذخیرہ ختم ہوگیا تو ان کی زندگی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائی ٹینک کی تلاش میں جانے والی آبدوز کو ایک اور مہلک خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس خطرے کو"ایمپلوژن"[دھماکے] کا نام دیا گیا ہے جو ایک میکینکل عمل ہے۔ یہ عمل کسی بھی چیز کے اندر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ چیز شدید بیرونی دباؤ کا شکار ہو۔

اسے انگریزی میں "Implosion" کہا جاتا ہے جو "Explosion" کا الٹ عمل ہے۔ چونکہ ایکسپلوژن میں دھماکہ کسی چیز کے اندرہوتا ہے اور اس چیز کو باہر کی طرف پھاڑتے ہوئےاس کے حصے بخرے کرتا ہے۔ مگر ’ایمپلوژن‘ کسی چیز میں بیرونی دباؤ کی وجہ سے اس کے اندر ہونے والا ایسا دھماکہ ہے جس میں دھماکے سے متاثرہ چیز باہر نہیں پھٹی بلکہ اس کا بیرونی حصہ اندر دھنس جاتا ہے۔

عین ممکن ہے کہ ٹائی ٹینک کے ملبے کی تلاش میں جانے والی آبدوز’ OceanGate Titan ’ایمپلوژن‘ کا شکار ہوئی ہو۔

امریکی غوطہ خور ماہر مائیکل ہیرس "ٹائی ٹینک" کے ملبے کا اکثر دورہ کرتے رہے ہیں نے امریکی بحریہ کی "ڈائیونگ" اور آبدوز کے مسافروں کو بچانے کی صلاحیت کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔ پیر کی شام انہوں نے امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "آب دوز کےڈھانچے کے ساتھ جو سب سے خراب چیز ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ 3,200 میٹر کی گہرائی میں بیرونی دباؤ کی وجہ سے پھٹ گیا ہوگا۔ یہ ملبے تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی گہرائی میں ڈوب گئی ہوگی جہاں پہنچنے کے لیے اڑھائی گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ یہ دس ہزار فٹ کی گہرائی سے زیادہ فاصلہ ہے اور اس مقام پر پانی کا دباؤ بہت زیادہ ہوسکتا ہے۔

آبدوز "ٹائٹن" کے اندر پھنس جانے والوں میں پاکستانی نژاد برطانوی ارب پتی 48 سالہ شہزادہ داؤد، ان کا بیٹا 19 سالہ سلیمان، دبئی میں کئی برس سےمقیم 58 سالہ ارب پتی ہمیش ہارڈنگ کے علاوہ 73 سالہ فرانسیسی کپتان پال ہنری نارجیولیٹ اور 61 سالہ برطانوی نژاد اسٹاکٹن شامل ہیں۔ اسٹاکٹن آبزدوزیں چلانے والی کمپنی OceanGate Expeditions کمپنی کے مالک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں