پریگزون ملک میں خانہ جنگی چاہتا: ماسکو حکام کا واگنر کمانڈر کی گرفتاری کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روسی فیڈرل سکیورٹی سروس نے واگنر کے رہنما ایوگنی پریگوزن پر مسلح بغاوت کا الزام عائد کیا اور اب روسی حکام نے پریگوزین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں خانہ جنگی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسے گرفتار کرلیا جائے۔

روسی فیڈرل سکیورٹی سروس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایوگنی پریگوزن کے بیانات اور اقدامات درحقیقت روسی فیڈریشن کی سرزمین پر مسلح خانہ جنگی شروع کرنے اور فاشسٹ نواز یوکرینی افواج کے خلاف لڑنے والے روسی فوجیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہیں۔ سکیورٹی سروس نے واگنر کے جنگجوؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ کمانڈر ایوگنی پریگوزن کی گرفتاری کے لیے اقدامات کریں۔

اس تناظر میں روسی پراسیکیوٹر جنرل ایگور کراسنوف کے دفتر نے تصدیق کی کہ وہ اپنے اقدامات کا مناسب قانونی جائزہ فراہم کرے گا۔ دفتر کے بیان کے مطابق 23 جون کو روسی فیڈرل سکیورٹی سروس کے تحقیقاتی محکمے نے قانونی طور پر ایک مسلح بغاوت کو منظم کرنے پر روسی ضابطہ فوجداری کے تحت پریگوزن کے خلاف ایک فوجداری مقدمے کا آغاز کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پریگزون کے کاموں کا مناسب قانونی جائزہ لیا جائے گا۔

روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس کے پبلک ریلیشن سینٹر نے واگنر پرائیویٹ ملٹری کارپوریشن کے یونٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پریگوزن کے احکامات پر عمل نہ کریں اور اسے حراست میں لینے کے لیے اقدامات کریں۔ مرکز نے تصدیق کی کہ روسی فوج خصوصی فوجی آپریشن کے علاقے میں یوکرین کی مسلح افواج کے ساتھ رابطے کی لائن پر جنگی مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ دریں اثنا روسی افواج نے دارالحکومت ماسکو میں اپنے طریقہ کار کو سخت کر دیا اور اہم تنصیبات پر پہرا بڑھا دیا ہے۔

روسی قومی کمیٹی برائے انسداد دہشت گردی نے جمعہ کو کہا تھا کہ روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس نے روسی نجی ملٹری واگنر گروپ کے کمانڈر ایوگنی پریگوزن کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ کھولا ہے اور اس پر مسلح بغاوت کا مطالبہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

روسی حکام کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایوگنی پریگوزن نے روسی فوج پر اپنے جنگجوؤں کو "تباہ" کرنے کا الزام لگایا اور فوجی قیادت کی "برائی" کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

دریں اثنا کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اعلان کیا کہ صدر ولادیمیر پوتین کو پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا اور اس حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں۔

پریگوزن نے روسی فوج کے خلاف الزامات لگائے اور وزارت دفاع نے فوری طور پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پریگوزن کے الزامات غلط اور میڈیا پر اشتعال انگیزی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر آڈیو پیغامات کی ایک سیریز میں پریگوزن نے کہا کہ جن لوگوں نے ہمارے نوجوانوں کو تباہ کیا، جنہوں نے دسیوں ہزار روسی فوجیوں کی زندگیاں تباہ کیں، انہیں سزا دی جائے گی۔

انہوں نے ایک جنگل میں ایک ویڈیو کلپ دکھایا جہاں چھوٹی چھوٹی آگ جل رہی ہے اور درختوں کو زبردستی کاٹا گیا ہے۔ اس منظر پر یہ تبصرہ کیا گیا تھا کہ واگنر کمپنی کے کیمپوں پر میزائل حملہ کیا گیا۔ یہاں بہت سے متاثرین ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حملہ پیچھے سے کیا گیا یعنی یہ حملہ روسی وزارت دفاع کی فوج نے کیا ہے۔

پریگوزن نے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں 25 ہزار ہیں اور ہم معلوم کریں گے کہ ملک میں افراتفری کیوں ہے۔ روسی وزیر دفاع کو ریڈ سکوائر پر دفنایا جائے گا اور لینن کے ساتھ مزار میں دفن کردیا جائے گا۔

تاہم پریگوزن نے یہ بھی کہا کہ "یہ فوجی بغاوت نہیں ہے"۔ پریگوزن عوامی طور پر وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور سینئر روسی جنرل ویلری گیراسیموف پر نااہلی کا الزام لگاتے ہیں۔ لیکن جمعہ کو انہوں نے پہلی مرتبہ روس کی طرف سے گزشتہ سال 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کرنے کے بنیادی جواز کو مسترد کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں