روس کے بحران نے پوتین کے اختیارات میں 'حقیقی دراڑیں' ظاہرکردیں: امریکی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ روس کے بحران میں کریملن کے خلاف کرائے کے مسلح گروپ کی ناکام بغاوت نے صدر ولادی میر پوتین کے اقتدار میں ’’حقیقی دراڑیں‘‘ ظاہرکردی ہیں۔

بلینکن نے سی بی ایس نیوز کے ٹاک شو 'فیس دا نیشن' میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجی واگنر گروپ اور اس کے رہنما ایوگینی پریگوزن کی اختتام ہفتہ پر برپا کردہ بغاوت ’’پوتین کے اقتدار واختیار کو براہ راست چیلنج' کے مترادف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس بحران سے گہرے سوالات جنم لیتے ہیں، یہ حقیقی دراڑوں کو ظاہر کرتا ہے‘‘۔یہ بیان امریکا کی جانب سے روس میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں پہلا عوامی ردعمل ہے۔ وہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں بغاوت پر یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھا۔

بلینکن نے اتوار کے روز متعدد ٹاک شوز میں حصہ لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ بحران کے کریملن یا یوکرین کی جنگ پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں قیاس آرائی کرنا قبل از وقت ہوگا۔

لیکن انھوں نے مختصر دورانیے کی بغاوت کو واقعات کا ایک "غیر معمولی" سلسلہ قرار دیا، جس میں پوتین کا ایک قریبی اتحادی تیزی سے روسی رہ نما کے خلاف ہو گیا اور کریملن میں طاقت کے مرکز کو خطرے میں ڈال دیا حالانکہ اس شخص نے یوکرین میں جنگ کی سب سے وحشیانہ لڑائی کے لیے اپنے نجی کرائے کے فوجیوں کو بھیجا تھا۔

بلینکن نے اے بی سی نیوز کے پروگرام 'دیس ویک' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 16 ماہ قبل روسی افواج پورے یوکرین پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے رہی تھیں لیکن اب اس ہفتے کے آخر میں انھیں روس کے دارالحکومت ماسکو کا دفاع پوتین کے اپنے بنائے ہوئے کرائے کے فوجیوں سے کرنا پڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس پورے واقعے میں پریگوزن نے خود یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت کے احاطے کے بارے میں گہرے سوالات اٹھائے ہیں جبکہ یوکرین یا نیٹو نے روس کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں کیا، جو پوتین کے بیانیے کا حصہ ہے۔

پوتین نے ہفتے کے روز ایک پرجوش تقریر میں پریگوزن پر غداری کا الزام عاید کیا اور مجرموں کو سزا دینے کا وعدہ کیا، لیکن پھر ایک عام معافی کے معاہدے کو قبول کیا جس میں واگنر سربراہ کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ہمسایہ ملک بیلاروس چلے جائیں گے۔

بلینکن کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے بغاوت پر سے توجہ ہٹانے سے یوکرین کو اضافی فائدہ ہوگا جب کہ روسی افواج کے خلاف جوابی حملے جاری ہیں۔واگنر کے پیدا کردہ بحران کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’’ہم کوئی قیاس آرائی نہیں کر سکتے یا یہ نہیں جان سکتے کہ یہ کیا رُخ اختیار کرے گا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں