خرطوم میں عید پربھی فضائی حملے اور جھڑپیں، جنگ بندی کے وعدے ایفاء نہ ہوسکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے کچھ حصوں میں بدھ کو عید کے پہلے روز بھی فضائی حملوں اور طیارہ شکن ہتھیاروں کی فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اپریل کے وسط سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار متحارب فوجی دھڑوں نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی کےاعلانات کیے ہیں لیکن وہ اس کی پاسداری میں ناکام رہے ہیں۔

سوڈان کی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جنگ نے سوڈان میں ایک بڑے انسانی بحران کو جنم دیا ہے اور قریباً 28 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ان میں سے قریباً ساڑھے چھے لاکھ نقل مکانی کر کے پڑوسی ممالک کی طرف چلے گئے ہیں۔

دریائے نیل کے سنگم پر واقع دارالحکومت خرطوم اور اس کے جڑواں شہروں بحری اور اُم درمان میں 10 ہفتے سے زیادہ عرصے سے شدید جھڑپیں اور لوٹ مار جاری ہے جبکہ اس تنازع نے دارفور کے مغربی علاقے میں نسلی بنیادوں پر ہلاکتوں میں اضافہ کیا ہے۔

مکینوں اور خبری ذرائع کے مطابق بدھ کی سہ پہر اُم درمان میں لڑائی شدت اختیار کر گئی تھی۔ اس تنازع کی نگرانی کرنے والے ایک سرگرم گروپ دارفور بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آر ایس ایف نے گذشتہ پانچ دنوں میں جنوبی ریاست دارفورکے علاقے منواشی میں دو بار مہلک حملے کیے ہیں۔

سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ ان جنگ بندیوں کو برقرار رکھیں جن کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔مشن نے ایک بیان میں کہا کہ آر ایس ایف اور اس کی اتحادی ملیشیا اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تشدد، عصمت ریزی اور لوٹ مار کے واقعات اور دارفور میں نسلی طور پرتشدد کی ذمے دار ہے جبکہ فوج رہائشی علاقوں میں حملوں اور فضائی بمباری کی جواب دہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان متحارب فریقوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے اور جنگ کے دوران میں ہونے والے جرائم کا احتساب کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سوڈان میں اب تک جنگ بندی کے متعدد معاہدے ناکام رہے ہیں۔ان میں سعودی عرب اور امریکا کی ثالثی میں جدہ میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں سمجھوتے بھی شامل ہیں۔ یہ مذاکرات گذشتہ ہفتے معطل کر دیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں