سوئٹزرلینڈ میں فرانسیسی فسادات سے متاثرپُرتشدد مظاہرے کے الزام میں سات نوجوان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں فرانس میں جاری فسادات سے متاثرہ بدامنی کے بعد چھے نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ہفتے کی شام لوزان میں مٹھی بھر مظاہرین نے پتھر پھینکے اور دکانوں کی کھڑکیاں توڑ دی دیں۔ان کے پتھراؤ سے جوتوں کی دکان خاص طور پر متاثر ہوئی ہے۔ان چھے نوجوانوں کے علاوہ ایک بالغ کو بھی فرانسیسی بولنے والے سوئس شہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

فرانس میں ٹریفک اسٹاپ کے دوران میں ایک 17 سالہ لڑکے کی پولیس کی فائرنگ سے ہلاکت کے واقعے کے بعد سے بلوے جاری ہیں اور فسادات کی پانچویں رات میں 700 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

لوزان پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ فرانس میں ہونے والے واقعات اور فسادات کی گونج میں سو سے زائد نوجوان وسطی لوزان میں جمع ہوئے اور انھوں نے کاروباروں کو نقصان پہنچایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد آمیز احتجاج سوشل میڈیا پر متعدد اپیلوں کے بعد شروع ہوا اور کئی دکانوں کی کھڑکیاں توڑ دی گئیں۔متعدد مواقع پر، پولیس افسروں کو جارحانہ انداز میں نوجوانوں کو منتشر کرنا پڑا جو ان پر پتھر اور مولوتوف کاک ٹیل پھینک رہے تھے۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے قریباً 50 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔گرفتار افراد میں 15 یا 16 سال کی عمر کی تین لڑکیاں شامل ہیں۔ان میں ایک بوسنیائی، ایک پرتگیزی اور ایک صومالی شہری ہے۔ 15 سے 17 سال کی عمر کے تین لڑکوں میں ایک سوئس ، ایک جارجیائی اور ایک سربیا کا شہری ہے اور ایک سوئس شخص ہے جس کی عمر 24 سال تھی۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔لوزان پولیس کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’ہم نے جو کچھ دیکھا ہے اس سے واضح طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نوجوان رات کے وقت فرانس کی صورت حال سے متاثر تھے‘‘۔

لوزان کے کونسلر پیئر انٹونی ہلڈبرانڈ نے سوئٹزرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ایس کو بتایا کہ ’’دکانوں کو لوٹنے کی ان منظم کوششوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ہم نے مظاہرے کا آغاز نہیں کیا تھا۔ہمیں ایسے لوگوں کا سامنا ہے جو کھڑکیاں توڑنے اور سامان ضبط کرنے کے لیے خود کو منظم کرتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں