روبوٹس کی موجودگی میں مصنوعی ذہانت پرپہلی بین الاقوامی سربراہ کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آج جمعرات اور کل جمعہ کو سوئس شہر جنیوا میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کے زیر اہتمام ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس فار دی کامن گڈ‘ پر عالمی سمٹ ہو رہی ہے جس میں پہلی بار انسانوں کے ساتھ روبوٹ بھی شامل ہوں گے۔

سمٹ جس میں 5000 افراد کی شرکت متوقع ہے 8 سماجی روبوٹس اور 20 سے زیادہ خصوصی روبوٹس کو پیش کیا جائے گا جنہیں پہلی بار ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ روبوٹ آگ پر قابو پانے، صحت کی دیکھ بھال، پائیدار کھیتی باڑی اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتیں ظاہر کریں گے۔

اقوام متحدہ کے 17 پائیدار ترقی کے اہداف جو 2015 میں طے کیے گئے تھے 2030 تک لوگوں کی زندگیوں اور کرہ ارض کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

تقریب میں موجود بوٹس میں وہ روبوٹ شامل ہیں جو دیکھ بھال کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ نادین، ایک سماجی بوٹ جو جذبات کی نقل کرتا ہے اور لوگوں کو "یاد رکھتا ہے"، وہ مہارتیں جو اس نے پہلے ہی نرسنگ ہومز یا گھروں میں موجود بزرگ کی دیکھ بھال میں مدد کرتا ہے۔ اس کےعلاوہ کانفرنس میں شریک ’صوفیہ‘ روبوٹ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی پہلی روبوٹک اختراعی سفیر کے طور پر شرکت کررہا ہے۔

دو روزہ ایونٹ میں روبوٹس کا ایک پینل پیش کیا جائے گا جو جمعہ کو دنیا کی پہلی روبوٹکس پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات اٹھائے گا۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیاں پہلے ہی مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہیں، جیسے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کا ہنگر میپ پروجیکٹ، جو کہ بھوک کی طرف کھسکنے والے علاقوں کی نشاندہی کرنے کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے۔ یہ خطرے والے علاقوں میں ہنگامی امداد پہنچانے کے لیے ریموٹ کنٹرول ٹرک بھی تیار کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں