سویڈن: پولیس احکامات نہ ماننے پر خاتون ماحولیاتی کارکن کو قید کی سزا کا سامنا

عدالت کا گریٹا تھنبرگ پر جون میں دوران احتجاج پولیس احکامات کی تعمیل نہ کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سویڈن میں معروف ترین موسمیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو پولیس کے احکامات نہ ماننے پر جیل جانے کے خطرے کا سامنا ہے۔ عدالت نے گریٹا تھنبرگ پر ملک کے جنوب میں مالمو میں جون کے وسط میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کے دوران پولیس کے احکامات کی تعمیل کرنے سے انکار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر نے نوجوان خاتون گریٹا تھنبرگ کے خلاف الزامات عائد کیے ہیں۔ تھنبرگ نے 19 جون کو مالمو میں ٹریفک میں خلل ڈالنے والے آب و ہوا کے مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔ پولیس نے خاتون کو جگہ چھوڑنے کا کہا تو اس نے پولیس احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

پولیس گریٹا تھنبرگ سے بات کر رہی ہے
پولیس گریٹا تھنبرگ سے بات کر رہی ہے

دفتر نے "ایجنسی فرانس پریس" کو تصدیق کی کہ ملزم گریٹا تھنبرگ ہے۔ جون کے وسط میں 20 سالہ گریٹا تھنبرگ نے "ٹا ٹِل باکا فریمٹیڈین‘‘ تنظیم کے ساتھ مالمو کی بندرگاہ میں ایک احتجاجی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ مظاہرین نے بندرگاہ کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے تھے۔ مظاہرین حیاتیاتی ایندھن کے استعمال کے خلاف احتجاج کے لیے آئل ٹینکرز کو متحرک کرنا چاہتے تھے۔

ماحولیاتی بہتری کے لیے سرگرم کارکن گریٹا تھنبرگ کو چھ ماہ تک قید کی سزا کا سامنا ہے۔ تاہم سرکاری وکیل شارلٹ اوٹوسن نے سویڈن کے روزنامہ ’’سڈسوینسکن‘‘ کو بتایا کہ اس الزام کی سزا عام طور پر جرمانہ ہے۔ کیس کی اگلی سماعت جولائی کے آخر میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں