امریکا کی برطانیہ سے چٹان ایسی مضبوط دوستی ہے:صدر بائیڈن کی رشی سوناک سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن کے قریبی اتحادی برطانیہ کے ساتھ 'چٹان سی مضبوط' دوستی کا اظہار کیا ہے۔

بائیڈن لیتھوانیا میں نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت سمیت تین ممالک کے دورے کے پہلے مرحلے میں اتوار کی رات لندن پہنچے تھے۔ انھوں نے سوموار کو برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک سے ان کے دفتر واقع 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ملاقات کی ہے۔

انھوں نے آج شاہ چارلس سے بھی ملاقات کی ہے۔انھوں نے مئی میں ان کی تاج پوشی کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی اوران کی جگہ خاتون اول جل بائیڈن نے شرکت کی تھی۔

رشی سوناک نے ڈاؤننگ اسٹریٹ گارڈن میں ملاقات میں بائیڈن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے لیے اپنی بات چیت جاری رکھنا بہت اچھا ہے‘‘۔ امریکی صدر نے جواب میں کہا کہ ’’ہمارے پاس بات کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ہمارے تعلقات مضبوط ہیں‘‘۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے قبل ازیں کہا کہ دونوں رہنما منگل کو لتھوانیا میں شروع ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس سے قبل نوٹس کا تبادلہ بھی کریں گے۔

اس دورے سے قبل بائیڈن نے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی مہم کے بارے میں محتاط رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی وجہ سے فوجی اتحاد روس کے ساتھ جنگ میں الجھ سکتا ہے۔

بائیڈن نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا،اس بارے میں نیٹو میں کوئی اتفاق رائے ہے کہ اس وقت جنگ کے درمیان یوکرین کو نیٹو خاندان میں شامل کیا جائے یا نہیں ‘‘۔

بائیڈن یہ دورہ یوکرین کو امریکا کی جانب سے کلسٹر گولہ بارود بھیجنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے چند روز بعد کررہے ہیں۔برطانیہ سمیت 100 سے زیادہ ممالک میں اس طرح کے ہتھیاروں پر پابندی عاید ہے۔انھیں شہری آبادی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ کلسٹر بم عام طور پر بڑی تعداد میں چھوٹے بم چھوڑتے ہیں اور وہ وسیع علاقے میں اندھا دھند مار سکتے ہیں۔

روس، یوکرین اور امریکا نے کلسٹر گولہ بارود سے متعلق کنونشن پر دست خط نہیں کیے ہیں، جو ایسے ہتھیاروں کی تیاری، ذخیرہ اندوزی، استعمال اور منتقلی پر پابندی عاید کرتا ہے۔

رشی سوناک نے ہفتے کے روز کلسٹر گولہ بارود کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ برطانیہ اس کنونشن پر دست خط کنندہ ہے۔ یہ ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔تاہم وہ یوکرین کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

سوناک سے بات چیت کے بعد 80 سالہ صدر نے قلعہ ونڈسر میں 74 سالہ شاہ چارلس سے ملاقات کی ہے اور ان سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی صدر خاص طور پر آب و ہوا کی تبدیلی کے مسئلے پر بادشاہ کے عزم کا بہت احترام کرتے ہیں۔جیک سلیوان نے اتوار کے روزایئر فورس ون میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ چارلس اس معاملے پر ایک واضح آواز رہے ہیں۔ صدربائیڈن کو امید ہے کہ وہ برطانوی بادشاہ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو مزید گہرا کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں