نیتن یاھو کی خفت، جو بائیڈن منگل کو صرف اسرائیلی صدر ہرزوگ کا استقبال کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن منگل کو وائٹ ہاؤس میں اپنے اسرائیلی ہم منصب اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں دو طرفہ تعاون، اسرائیل اور خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات، ایرانی جوہری پروگرام اور ایران کے ساتھ روس کے فوجی تعلقات پر بات چیت ہوگی۔ امریکی نائب صدر کیملا ہیرس بدھ کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی صدر کا استقبال کریں گی۔ اسرائیلی صدر کا یہ دورہ 1948 میں ملک کے قیام کی پچھترویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر ہو گا۔ اسحاق ہرزوگ کو بدھ کو امریکی ایوان نمائندگان اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

بائیڈن کی جانب سے اسرائیلی صدر کو مدعو کیا گیا۔ اس دعوت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے ایک طرح کی بے توقیری ظاہر کی ہے۔ نیتن یاھو کو دسمبر میں اپنے انتخاب کے بعد اور چھٹی بار الیکشن جیتنے کے بعد سے اب تک وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے کا سرکاری دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔ اسرائیل کے ہر منتخب ہونے والے وزیر اعظم کو مدعو کیے جانے کی روایت کے باوجود نیتن یاھو کو دعوت نہیں دی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرن جین پیئر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بائیڈن اسرائیلی صدر کا استقبال کرنے کے منتظر ہیں۔ یہ ملاقات ہماری مشترکہ جمہوری اقدار کی اہمیت پر زور دے گی۔ ملاقات میں آزادی، خوشحالی اور سلامتی کے مساوی اقدامات کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے اور خطے میں ایران کا غیر مستحکم رویہ پر بھی گفتگو ہوگی۔

اسرائیلی صدر کا ریاست ہائے متحدہ کا دورہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے دور کے بعد ہے۔ اسی طرح اس سے قبل امریکہ کی جانب سے بائیڈن نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کو یہودی بستیوں کی تعمیر نو پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔

امریکی قانون سازوں نے کہا ہے کہ بائیڈن نیتن یاہو کو نظر انداز کرتے ہیں کیونکہ ایرانی جوہری معاہدے کے بارے میں امریکی اور اسرائیلی نظریات میں اختلاف ہے۔ دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان مسلسل قریبی انٹیلی جنس اور فوجی تعاون کے باوجود نیتن یاہو اور بائیڈن کے درمیان تعلقات اسرائیلی عدالتی اصلاحات کے بحران کی وجہ سے بہت کشیدہ ہیں۔

بائیڈن نے نیتن یاہو کی حکومت کو گولڈا میئر کے دور کے بعد سے سب سے زیادہ سخت گیر اور سب سے زیادہ دائیں بازو کی حکومت قرار دیا تھا۔

بائیڈن نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت کے ارکان شدت پسند ہیں۔ انہوں نے کہا فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے بہترین راستہ کے طور پر دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کی تصدیق کرتا ہوں۔

دوسری جانب اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر نے امریکی صدر پر حملہ کرتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا کہ صدر بائیڈن کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اسرائیل اب امریکی دنیا کا دوسرا ستارہ نہیں رہا۔ وہ مجھے ایک انتہا پسند کیسے قرار دیتے ہیں۔ میں تو اسرائیل کے شہریوں ہتھیار اس لیے دے رہا ہوں تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکیں۔

لیکوڈ پارٹی کے کنیسٹ کے رکن ڈینی ڈیلن نے بھی بائیڈن پر تنقید کی اور کہاکہ میں امریکہ کا احترام کرتا ہوں۔ امریکہ ہمارا عظیم دوست ہے۔ لیکن ریاست اسرائیل کی پالیسی کا تعین صرف یروشلم کی حکومت کرے گی۔ اسی حکومت کو اسرائیل کے عوام کی طرف سے جمہوری طور پر منتخب کیا ہے۔

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعظم یائر لاپڈ نے امریکی صدر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن نے اس حکومت کو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے زیادہ شدت پسند قرار دیا جو درست ہے۔

’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ نے بھی بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور نیتن یاہو اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ ان کے معاملات کو ایران کے ساتھ ان کے معاملات سے بھی بدتر قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں