یورپی یونین کے ممالک ایران پر میزائل پابندیاں برقرار رکھیں گے: مغربی عہدہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک یورپی عہدہ دار نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کو ایران کے خلاف بیلسٹک میزائل پابندیوں کو برقرار رکھنے کے لیے قائل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

اس عہدہ دار نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ 2023 کے آخر تک ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے جوہری معاہدے پر بات چیت بحال ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے پاس ایک چھوٹا سا موقع ہو سکتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ جوہری معاہدے کی واپسی یا کم سے کم کشیدگی میں کمی کے معاہدے پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرسکیں‘‘۔

اس عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ سال کے اختتام سے پہلے مذاکرات کا امکان ہے۔واضح رہے کہ ایران کے ساتھ 2015 میں طے شدہ جوہری معاہدہ اب متروک ہوچکا ہے اور اس کی بحالی کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔یہ مذاکرات اب گذشتہ سال سے تعطل کا شکار ہیں۔

جون میں ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ایران کے خلاف یورپی پابندیوں کو برقرار رکھنے کی تین وجوہات ہیں: روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف ایران کے مہیا کردہ ڈرونز کا استعمال۔ نیزایران روس کو بیلسٹک میزائل منتقل کر سکتا ہے اور ایران کو جوہری معاہدے کے فوائد سے محروم کرنا کیونکہ تہران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2018 میں ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر دست بردار ہوگئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی اس کی شرائط کی بتدریج خلاف ورزیاں شروع کردی تھیں۔

ایران نے برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ طے کیا تھا۔اس نے تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کر دیا تھا تاکہ اس کے لیے جوہری بم کے لیے درکارمواد حاصل کرنا مشکل ہو جائے۔

امریکا کے اندازوں کے مطابق سابق صدر ٹرمپ کے معاہدے سے دستبرداری کے بعد اور موجودہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے اسے بحال کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں ایران اب صرف 12 دن میں ایک بم کے لیے درکار تباہ کن مواد تیار کر سکتا ہے۔معاہدے پر عمل درآمد کے وقت ایران ایک سال کی مدت میں ایسا مواد تیار یا حاصل کرسکتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں