یورپ میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت نے سیاحوں کو نئی منزلیں تلاش کرنے پر مجبور کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سیاحتی اداروں اور ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ پورے جنوبی یورپ میں موسم گرما کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت سیاحوں کی عادات میں دیرپا تبدیلی لا سکتا ہے اور وہ شدید گرمی سے بچنے کے لیے سرد مقامات کا انتخاب، یا چھٹیوں کو گرمیوں کی بجائے موسم بہار یا خزاں میں منتقل کر سکتے ہیں۔

یورپین ٹریول کمیشن (ای ٹی سی) کے اعداد وشمار کے مطابق بحیرۂ روم کے خطے میں جون سے نومبر کے دوران سفر کرنے والوں کی تعداد میں گذشتہ سال کی نسبت پہلے ہی 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جب شدید گرم موسم قحط اور جنگل میں آگ لگنے کا باعث بنتا ہے۔

اس دوران جمہوریہ چیک، ڈنمارک، آئرلینڈ، اور بلغاریہ جیسے ممالک میں سیاحوں کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ای ٹی سی کے سربراہ میگل سینز نے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں یورپ میں ناقابلِ پیش گوئی موسمی حالات نے سیاحوں کی پسند اور انتخاب پر کافی اثر کیا ہے۔" ٹریڈ باڈی کی رپورٹ بھی ظاہر کرتی ہے کہ جون اور نومبر کے دوران سفر کے حوالے سے 7.6 فیصد مسافروں کو شدید گرم موسم پر تشویش ہے۔

تاحال کوئی منسوخی نہیں اس موسم گرما میں سفر کی طلب دوبارہ بڑھی ہے کیونکہ سیاح اب کرونا وبا کی سالوں تک طویل پابندیوں سے آزاد ہو گئے ہیں اور سفری کمپنیوں کہتی ہیں کہ تاحال گرمی کی وجہ سے لوگوں نے کچھ زیادہ تعداد میں سفر منسوخ نہیں کیا ہے۔

برطانوی ٹریول ایجنٹ گروپ کے شان ٹپٹن نے کہا کہ "برطانوی مسافروں نے چھٹیوں کے لیے اپنے ملک میں کم اور بحیرۂ روم میں زیادہ بکنگ کروائی ہے، اور اکثر لوگوں نے کئی ماہ پہلے پیشگی بکنگ کروائی ہوئی ہے۔ انہیں لاک ڈاؤن کے بعد ساحل سمندر کا رخ کرںے کی خواہش رہتی ہے۔"

لیکن یہ توازن اب ممکن ہے بدل جائے کیونکہ گرمی کی لہر مزید شدید ہونے کو ہے۔ سائنس دانوں نے بہت پہلے خبردار کیا تھا کہ فوسل فیولز جلانے سے سی او ٹو گیس کے اخراج سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے موسم زیادہ بکثرت، شدت، اور ہلاکت خیز ہو جائیں گے۔

موسمیاتی ماہرین پیش گوئی کرتے ہیں کہ آئندہ ہفتوں کے دوران یورپ کے درجۂ حرارت کے موجودہ ریکارڈ، 48.8 ڈگری (119.84 فارن ہائیٹ) سے زیادہ گرمی ہونے کا امکان ہے۔ یہ سسلی میں اگست 2021ء میں تھا۔ اس سے گذشتہ سال کی طرح گرمی کی اموات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

سیاحوں کو اطالوی ساحلوں سے ہوائی جہاز کے ذریعے، یا ایتھنز کے ایکروپولیس سے ایمبولینسوں میں لے جانے کی کہانیاں حالیہ ہفتوں میں یورپی میڈیا میں بڑی تعداد میں شائع ہوئی ہیں۔

سانز نے کہا کی "ہماری حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ عروج کے مہینے اگست میں سفر میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے، جب کہ زیادہ یورپی افراد اب خزاں میں سفر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔"

روم میں جنوبی یورپ میں سیاحوں کے ارادوں میں تبدیلیوں سے رائٹرز کو پتا چلا کہ وہ جولائی میں دوبارہ وہاں سیر کی بکنگ کروانے کے بارے میں دو بار سوچیں گے کیونکہ انہیں زیادہ پانی پینے، ٹھنڈا رہنے، اور آرام کے لیے ایئر کنڈیشنڈ مقامات تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔

اس ہفتے روم میں اپنے شوہر کے ساتھ چھٹیوں پر آنے والی ایک امریکی سیاح، ڈالفنا نیبوہر نے کہا کہ "جب موسم ٹھنڈا ہو گا تو میں تبھی آؤں گی۔ صرف جون یا اپریل میں۔ گرمی ہماری کی سیر کو "پریشان کن بنا رہی ہے۔"

یہ اٹلی کی معیشت کے لیے بری خبر ہے، جو موسم گرما کی مصروفیت پر کافی انحصار کرتی ہے۔ اٹلی کی وزارت ماحولیات نے اس سال ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ غیر ملکی سیاح مستقبل میں موسم بہار اور خزاں میں زیادہ سفر کریں گے اور ٹھنڈے مقامات کا انتخاب کریں گے۔

اس رپورٹ کے مطابق، "معیشت کا توازن منفی ہو گا، اس لیے بھی کہ اطالوی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بین الاقوامی سیاحت کے لیے کم گرم ممالک کا انتخاب کرے گی۔" کچھ لوگوں کو امید ہے کہ یہ تبدیلی محض لوگوں کی آمد میں تبدیلی ہوگی، کمی نہیں۔

یونان میں جنوری اور مارچ کے درمیان بین الاقوامی ہوائی آمد میں سالانہ بنیادوں پر 87.5 فیصد اضافہ ہوا، وہاں موسم گرما میں سیاحوں کے ہجوم نے گرم سیاحتی مقامات جیسے جزیرہ میکونوس کو متأثر کیا ہے۔

یونانی وزارتِ ماحولیات کے مطابق، موسم سرما، بہار اور خزاں کے مہینوں میں سفر میں اضافہ اس مسئلے کی شدت کو کم اور موسم گرما میں ممکنہ سست روی (سے ہونے والے نقصان) کی تلافی کر سکتا ہے۔ یونانی حکام نے جمعے کو سیاحوں کی حفاظت کے پیشِ نظر دن کے گرم ترین حصے میں ایتھنز کے قدیم ایکروپولیس کو بند کر دیا۔

قومی سیاحتی انجمن Exceltur کی ایک رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ سپین کے شمال میں ساحلی مقامات اور ہسپانوی سیاحتی جزائر پر زیادہ سیاح تعطیلات کے لیے آئیں گے کیونکہ یہاں موسم گرما میں درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔ بلباؤ کا دورہ کرنے والے، سپین کے ڈینیل اوٹیرو اور ریبیکا وازکوز نے کہا کہ وہ اپنی چھٹیاں اگلے سال جون میں منتقل کر سکتے ہیں، جب یہ ٹھنڈا اور زیادہ پرسکون ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں