روسی صدرپوتین جنوبی افریقا میں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادی میر پوتین اگست میں برکس کے جنوبی افریقا میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

کریملن نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سربراہ اجلاس میں روس کی نمائندگی وزیرخارجہ سرگئی لافروف کریں گے۔

جنوبی افریقا کو برکس کے سربراہ اجلاس کی میزبانی پرسفارتی مخمصے کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے رکن کی حیثیت سے وہ صدر پوتین کو ان کی شرکت کی صورت میں مبیّنہ جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار کرنے کا پابند ہے۔

جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامفوسا نے منگل کو جاری کردہ عدالتی دستاویزمیں قراردیا تھا کہ صدر ولادی میر پوتین کی گرفتاری روس کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہوگی۔

انھوں نے برکس گروپ کے چیئرمین کی حیثیت سے روسی صدر کو آیندہ ماہ جوہانسبرگ میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن ان کے خلاف آئی سی سی نے جنگی جرائم کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کررکھے ہیں۔ آئی سی سی نے صدرپوتین پر الزام عاید کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے بچّوں کو غیر قانونی طور پر ملک بدرکیا ہے

جنوبی افریقا برکس کا موجودہ چیئرمین ہے۔اس گروپ میں برازیل، روس، بھارت اور چین بھی شامل ہیں۔ یہ گروپ خود کو مغربی اقتصادی غلبے کے مقابلے میں ایک جوابی توازن کے طور پر دیکھتا ہے۔

جنوبی افریقا کے نائب صدر پال ماسٹیل نے مقامی میڈیا کو دیے گئے حالیہ انٹرویوز میں کہا تھاکہ حکومت صدرپوتین کو یہاں نہ آنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں