قرآن کی بے حرمتی کی اجازت پر سعودی عرب میں سویڈش سفیر کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے سویڈش حکام کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات اور بعض انتہا پسندوں کو قرآن کریم کے نسخوں کو نذر آتش اور بے حرمتی کرنے کی بار بار اجازت دینے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں ایک مرتبہ پھر سویڈن کے ناظم الامور کو طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے بیان میں مزید کہا کہ وہ سویڈن کے ناظم الامور کی طلبی کے دوران مملکت کی جانب سے احتجاجی پیغام ان کے حوالہ کیا جائے گا جس میں سویڈش حکام کو مذہبی تعلیمات، بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی اور ذلت آمیز کارروائیوں کو روکنے کے لیے تمام فوری اور ضروری اقدامات کی درخواست کی جائے گی۔

بیان میں سویڈن کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے تمام اقدامات کو روکے جو ان بین الاقوامی کوششوں سے متصادم ہوں اور جو رواداری، اعتدال پسندی کی اقدار کو پھیلانے اور انتہا پسندی کو مسترد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ سعودی عرب مذاہب کے درمیان نفرت کو ہوا دینے اور لوگوں کے درمیان بات چیت کو محدود کرنے والے ان تمام کارروائیوں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔

خیال رہے کہ سویڈش پولیس نے گذشتہ روز سٹاک ہوم کی مسجد کے باہر ایک عراقی شہری سلوان مموکا کو قرآن کریم کے نسخے کو نذر آتش کرنے کی اجازت دی تھی جس پر مسلمان ممالک کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔

سویڈن کی جانب سے قرآن کی بے حرمتی کی ایک مرتبہ پھر اجازت دینے پر جمعرات کی صبح مظاہرین نے بغداد میں سویڈن کے سفارتخانے کو آگ لگا دی تھی جس کے بعد عراق نے سویڈن کے سفیر کو ملک بدر کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں