کینیا نے فوج بھیجی تو کوئی سپاہی زندہ واپس نہیں جائے گا: سوڈانی فوج کمانڈر کی دھمکی

سوڈانی فوج کی کینیا پر منحرف سریع الحرکت فورسز کی حمایت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈانی فوج کے ایک سینیر کمانڈر نے پڑوسی ملک کینیا کی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ سوڈان میں 100 سے زائد دنوں سے جاری خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے امن فوجی دستے بھیج رہا ہے۔

سوڈانی فوج کے سینیر عہدیدار کینیا کی طرف سے امن فوجی دستوں کو بھیجنے کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے سنگین نتائج پر خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرکینیا کی طرف سے سوڈان میں فوجی بھیجے گئے تو ان میں سے کوئی بھی زندہ واپس نہیں جائےگا۔

سوڈانی فوج اور نیم فوجی ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان تین ماہ سے زاید عرصے سے لڑائی جاری ہے۔ سوڈان میں جاری محاذ آرائی روکنے کے لیے بین الاقوامی ثالثی کی بہت سی کوششیں ہوچکی ہیں، لیکن کوئی بھی 15 اپریل کو شروع ہونے والی لڑائی کو ختم کرنے یا روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

اس ماہ کے شروع میں بین الحکومتی اتھارٹی آن ڈویلپمنٹ (IGAD) ایک مشرقی افریقی علاقائی بلاک جس میں کینیا بطور رکن شامل ہے نے سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں امن فوجیوں کی تعیناتی سمیت ایک اقدام کی تجویز پیش کی تھی۔

سوڈانی فوج نے کینیا کی قیادت میں پیش قدمی کو بار بار مسترد کرتے ہوئے اس پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی امن فوجیوں کو دشمن قوتیں تصور کریں گے۔

سوڈانی مسلح افواج کے اسسٹنٹ کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل یاسر العطا نے کہا کہ "مشرقی افریقی افواج انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔‘‘ انہوں نے قسم کھائی کہ ان میں سے کوئی بھی فوجی واپس نہیں آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک تیسرا ملک تھا جس نے کینیا کو اس اقدام کو آگے بڑھانے پر اکسایا تاہم انہوں نے اس تیسرے ملک کا نام نہیں بتایا۔

سوڈانی رہ نما کے جواب میں کینیا کے وزیر خارجہ کوریر سنگھ اوئی نے رائیٹرز کو بتایا کہ وہ سوڈانی فوجی عہدیدار کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا ملک غیر جانبدار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات پر اصرار کرنے سے کہ پائیدار امن صرف کسی بھی ثالثی کے عمل میں سویلین فریقوں کو شامل کرنے اور مظالم کی روک تھام کا مطالبہ سوڈان میں کچھ لوگوں کے لیے قبول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔"

دریں اثناء خرطوم ریاست میں پیر کو بھی لڑائی جاری رہی۔ امبدہ میں کمیٹی نے بتایا کہ ام درمان میں گولہ باری میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں