امریکا اور برطانیہ کی پابندیوں کاشکار جعفرمنتظری ایران کی عدالتِ عظمیٰ کے سربراہ مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے امریکا اوربرطانیہ کی پابندیوں کی زد میں آنے والے محمد جعفرمنتظری کو عدالتِ عظمیٰ کا نیا سربراہ مقرر کردیا ہے۔

عدلیہ کی میزان آن لائن ویب سائٹ کے مطابق منتظری کو سپریم کورٹ کا سربراہ اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کی رائے کو ملحوظ رکھ کر مقرر کیا گیا ہے۔

جعفر منتظری 2016 سے ایران کے پراسیکیوٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ میزان نے مزید اطلاع دی ہے کہ اب ان کی جگہ ہائی ڈسپلنری کورٹ آف ججز کے سربراہ محمد کاظم مواحیدی آزاد یہ عہدہ سنبھالیں گے۔ یہ عدالت عدلیہ کے طرزِعمل کی تحقیقات کرتی ہے۔

امریکا نے جعفر منتظری پردسمبر میں پابندیاں عاید کی تھیں اور واشنگٹن نے ان کے بارے میں یہ نشان دہی کی تھی کہ انھوں نے گذشتہ سال ایران میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران میں مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائیوں کے نگران کے طور پر کردار ادا کیا تھا۔

برطانیہ نے جنوری میں جاسوسی کے الزام میں ایرانی نژاد برطانوی شہری علی رضا اکبری کو پھانسی دینے کے ردعمل میں منتظری کے خلاف تادیبی اقدامات کیے تھے۔

ایران میں گذشتہ سال ستمبر میں 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی پولیس کے زیرحراست موت کے بعد بدامنی پھیل گئی تھی۔امینی کو خواتین کے لیے ملک میں نافذالعمل لباس کے قوانین کی مبیّنہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور تین روز بعد ان کی تہران میں اخلاقی پولیس کے زیرحراست موت واقع ہوگئی تھی۔

ان مظاہروں میں درجنوں سکیورٹی اہلکاروں سمیت سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔حکام نے اس احتجاجی تحریک کو 'فسادات' کا نام دیا تھا۔اب تک اس احتجاج سے متعلق مقدمات میں سات افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ان میں سکیورٹی فورسز کے خلاف قتل اور تشدد کے دیگر واقعات کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں