مقامی سطح پر ڈرون کی تیاری کے لیے سعودی اور ترک کمپنیوں کے درمیان معاہدہ

وزارت دفاع کی طرف سے ترک کمپنی "بایکار" کے ساتھ دو معاہدوں کے تسلسل کے طور پر دستخط کیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی دارالحکومت ریاض میں اتوار کو وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی سرپرستی میں فوجی اور دفاعی صنعتوں میں مہارت رکھنے والی متعدد قومی کمپنیوں اور ترکی کی بڑی دفاعی کمپنیوں کے درمیان ایک معاہدے اور مفاہمت کی دو یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں کا مقصد مملکت کے اندر ڈرون کی صنعت اور اس کے اجزاء کے نظام کو مقامی بنانا ہے۔

یہ معاہدہ اور مفاہمت کی دو یادداشتیں دفاعی صنعتوں کے لیے ترکی کی کمپنی "بایکار" کے ساتھ تقریباً دو ہفتے قبل وزارت دفاع کی جانب سے دستخط کیے گئے دو معاہدوں کے تسلسل کے طور پر سامنے آئے ہیں، جن کا مقصد مملکت کی دفاعی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں اور مسلح افواج کی استعداد کو بڑھانا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ، اس موقع پر منعقدہ تقریب کے دوران سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی نے ترکی کی کمپنی "بایکار" کے ساتھ دفاعی صنعتوں کے لیے سمجھوتے کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد جامع مواد کا استعمال کرتے ہوئے الیکٹرانک سسٹم، مکینیکل پرزہ جات، اور ہوائی جہاز کے ڈھانچے کی تیاری، مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں کام کرنا ہے۔

معاہدے پر سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی کے سی ای او انجینئر ولید بن عبدالمجید اور ترکی کی کمپنی "بایکار" کے سی ای او خلوق بیرقدار نے دستخط کیے۔

ڈرون سسٹم کے لیے اسلحے اور آپٹیکل سینسرز کی تیاری کو مقامی بنانے اور انہیں مملکت کے اندر تیار کرنے کے لیے نیشنل کمپنی برائے مکینیکل سسٹمز نے ترکی کی کمپنی ایسلسان اور ترک کمپنی روکتسان کے ساتھ مفاہمت کی دو یادداشتوں پر بھی دستخط کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں