سعودی عرب میں ہونے والی میراتھن جس میں شرکاء شدید گرمی میں اپنے اعصاب کو آزمائیں گے

’العلاء کے شعلے‘ ریس میں خطے اور دنیا بھر سے 200 رنرز کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آج اتوار کو سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع العلا میں پہلی بار ’العلاء کے شعلے‘ کے عنوان سے میرا تھن ریس کا آغاز کیا رہا ہے۔ یہ ریس کسی بھی عالمی معیار کی ریسوں کی طرح ایک ریس ہے۔

دوڑ میں شامل رنرز خطے اور دنیا بھر سے حصہ لیں گے، گرمیوں کے دوران یہ دوڑ زیادہ درجہ حرارت میں انتہائی جسمانی مشقت کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو جانچنے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ یہ دوڑ ایک بے مثال تجربہ فراہم کرنے کا موقع ہے جسے خلیج عرب کے خطے میں ابھی تک سب سے مشکل چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

برداشت کی دوڑ کے ٹریک بھی العلا کے صحرائی علاقے، اس کی شاندار قدرتی خصوصیات اور شاندار وادیوں کے درمیان پھیلے ہوئے ہیں، جہاں دنیا بھر سے رنرز 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں دوڑ میں حصہ لیں گے۔

ریس کا آغاز تاریخی مقام الحجر سے ہوگا جو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں رجسٹرڈ پہلی سعودی سائٹ ہے۔ رنرز 5، 10 اور 21 کلومیٹر کی دوڑ میں حصہ لینے کے ساتھ آخر میں 42 کلومیٹر کے سب سے مشکل ٹریک میں قسمت آزمائی کریں گے۔ان کا سفر مرایا ہال کے سامنے وادی شاعر کے قلب میں شروع ہوگا۔یہ مخصوص عمارت ہے جس نے گنیز بک آف ریکارڈز میں جگہ بنائی ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی آئینہ دار عمارت ہے۔

یہ قابل ذکر ہے کہ العلا کی دوڑ کھیلوں کے مقابلوں کی فہرست میں تازہ ترین ایونٹ ہے جو خطے کے شاندار قدرتی مناظر، جیسے ریت کے پتھروں کی چٹانیں، سرسبز و شاداب نخلستان اور زرخیز زرعی زمینوں کے درمیان ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں