20 سالہ سفید فام امریکی کی ’سیاہ فاموں سے نفرت‘ نے چار زندگیاں نگل لیں
شوٹر نے ٹیکٹیکل جیکٹ پہن رکھی تھی اور وہ آے آر طرز کی رائفل اور گلاک پستول سے مسلح تھا
امریکی حکام کے مطابق نسل پرستی کی وجہ سے ایک سفید فام حملہ آور نے فلوریڈا کے ایک سٹور میں چار سیاہ فام افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تین سیاہ فام افراد کو نشانہ بنانے کے بعد حملہ آور نے خود کو بھی گولی مار لی۔ یہ واقعہ فلوریڈا کے شہر جیکسن وائل میں پیش آیا۔
جیکسن وائل کے پولیس افسر ٹی کے واٹرز نے ایک نیوز کانفرس نے دوران کہا کہ فائرنگ کے اس واقعے میں تین مرد اور ایک خاتون جان سے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آور نے وفاقی قانون نافذ کرنے والے حکام اور میڈیا کے ایک اداروں کو ایک تحریر بھیجی تھی جس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ حملہ آور ’سیاہ فاموں سے نفرت کرتا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آور کا عمل انفرادی تھا اور ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ وہ کسی تنظیم کا حصہ تھا۔
پولیس افسر ٹی کے واٹرز کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کی عمر 20 سال سے زیادہ تھی اور اس کے پاس گلاک پستول اور ایک سیمی آٹومیٹک رائفل تھا جس پر سواستیکا کا نشان بنا ہوا تھا۔
’اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔ یہ حملہ آور 2016 میں گھریلو تشدد کے واقعے میں بھی ملوث رہا تھا اور اپنی خواہش کے خلاف دماغی امراض کے ہسپتال میں معائنے کے لیے گیا تھا۔‘
حکام نے ابھی تک فائرنگ کرنے والے شخص کا نام جاری نہیں کیا۔
-
امریکی پولیس نے ہتھیار ڈالنے کے باوجود کتے کو سیاہ فام کو بھنبھوڑنے کیلئے چھوڑ دیا
امریکی ریاست اوہائیو کی گلیوں میں تصور سے زیادہ خوفناک واقعہ پیش آگیا۔ ایک افریقی ...
بين الاقوامى -
امریکی پولیس افسر کی سیاہ فام حاملہ خاتون سے بد سلوکی پر غم و غصہ
’’ مجھے ہاتھ مت لگانا، میں حاملہ ہوں، ’’ خاتون کی پکار، ’’مجھے فرق نہیں پڑتا‘‘ ...
بين الاقوامى -
سیاہ فام اینٹونی لو کا چاقو حملہ روکنے کے لیے فائرنگ کی: امریکی پولیس کا دعویٰ
امریکہ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ٹانگوں سے محروم سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد تناز ...
بين الاقوامى -
امریکی پولیس اہلکار کی 7 گولیاں کھا کربھی سیاہ فام امریکی زندہ بچ گیا: ویڈیو
امریکا میں چند ماہ قبل جار فلائیڈ نامی ایک سیاہ فام شہری کے پولیس اہلکاروں کے ...
بين الاقوامى