طویل لباس یا عبایا؟ فرانس میں طالبات نے صدر میکرون کو کیسے چیلنج کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تعلیمی سال کے آغاز سے چند دن پہلے فرانس میں ایک ایسے قانون کے نفاذ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنازعہ دیکھنے میں آیا جس میں سکولوں میں عبایا یا لمبے، ڈھیلے کپڑے پہننے کے ساتھ ساتھ یہودی "ٹوپی" پہننے، گلےمیں صلیب کی علامت لٹکانے یا دیگر مذہبی علامات ظاہر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

دریں اثنا فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نےزور دے کر کہا کہ فرانسیسی طلباء اگر لمبے کپڑوں میں اسکول آتے ہیں تو انہیں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حکام اگلے پیر کو کلاسز دوبارہ شروع ہونے پرسختی سے قانون کا نفاذ کریں گے۔

میکروں نے گذشتہ روز جنوبی فرانس میں ووکلوز کے علاقے میں ایک پیشہ ورانہ اسکول کے دورے کے بعد پہلی بار عوامی طور پر لباس کے ضابطے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ طلباء کی طرف سے جمہوریہ کے نظام کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جائے گی۔"

انہوں نے کہا کہ ملک میں اسکول مفت، لازمی، اور "سیکولر" ہیں۔ ہم اپنے قوانین پر سختی سے عمل کرائیں گے۔

تاہم صدر کے الفاظ کے ساتھ ہی "چیلنج" کا آغاز کیا گیا۔ ملک میں سوشل میڈیا سائٹس پر اپیلیں شروع ہو گئیں اور طلبا پر ایسے قوانین کو نہ ماننے پر زور دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک لڑکی نمودار ہوئی، جس میں ہر طالب علم سے خواہ وہ مسلمان ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو یا کوئی اورلمبا لباس پہننے کا مطالبہ کیا گیا، اور اسےخواتین کی یکجہتی برابری کا مسئلہ قرار دیا۔

ملبوسات کا سمندر

طالبات نے طنزکرتے ہوئے حکام سے استفسار کیا کہ وہ "عبایا یا لمبے لباس" میں فرق کیسے کریں گے؟

ویڈیو میں دکھنے والی طالبہ نے مزید کہا کہ "میں یہ دیکھنے کی منتظر ہوں کہ وہ لمبے لباس کے اس سمندر کے درمیان کیسا برتاؤ کریں گے۔"

کیا وہ اس کا رنگ، اس کا قد، یا لڑکی کا سر چھپا رہے ہیں/یا کیا؟ اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ قانون مضحکہ خیز ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی مضحکہ خیز اقدامات کرنے کی ضرورت ہے!

سنہ2004ء میں جاری ہونے والے اس قانون کےخلاف چند روز قبل ملک میں طوفان برپا ہوا تھا، تاہم وزیر تعلیم جبریل اٹل نے گذشتہ جمعرات کو تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ایک میمورنڈم بھیج کر اسے بحال کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عبایا پہننا یا لمبی قمیض اسکول کے ماحول میں مذہبی وابستگی کا اظہار کرتی ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔"

سیکولرازم کی خلاف ورزی

وزیر تعلیم نے مڈل اور ہائی اسکولوں میں لمبے لباس پہننے والی لڑکیوں اور لڑکوں کو "سیکولرازم کی خلاف ورزی" کے مرتکب قرار دیا۔انہوں نے کچھ طلباء پر الزام لگایا کہ وہ اسکولوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں روایتی لباس استعمال کر رہے ہیں۔

سنہ 1905ء کے قانون کے بعد سے جس نے کیتھولک چرچ اور ریاست کی علیحدگی قائم کی سیکولرازم کے فرانسیسی تصور نے مذہب کو نجی دائرے تک محدود کر دیا ہے۔

فرانسیسی طلبا۔
فرانسیسی طلبا۔

برسوں کے دوران یہ تصور فرانسیسی معاشرے میں مضبوطی سے قائم ہو چکا ہے۔

15 مارچ 2004 کو ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت سرکاری اسکولوں، کالجوں اور ہائی اسکولوں میں طلباء کو ان کی مذہبی وابستگی ظاہر کرنے والے نشانات یا لباس پہننے سے منع کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں