روس اور یوکرین

550 روزہ جنگ کے بعد یوکرینی صدر نے وزیر دفاع زیرینکوف کو برطرف کر دیا

سبکدوش کیے جانے والے وزیر دفاع کی جگہ لینے والے رستم عمیروف یوکرین کے پہلے مسلمان وزیر ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کے روز اولیکسی زیرینکوف کو عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں 'نئے نقطہ نظر' کی ضرورت ہے۔ انہوں نے رستم عمیروف کو نیا وزیر دفاع نامزد کیا ہے۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کی رات کو قوم کے نام اپنے معمول کے خطاب کے دوران وزیر دفاع اولیکسی ریزینکوف کوان کے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا۔ وہ فروری 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے سے قبل سے ہی اس عہدے پر فائز تھے۔

کچھ عرصے سے اس بات کا اندازہ لگایا جارہا تھا کہ زیلنسکی اپنے وزیر دفاع کو برطرف کرسکتے ہیں۔ انہوں نے قوم کے نام خطاب میں کہا کہ وزارت دفاع میں اب "نئے نقطہ نظر" کی ضرور ت ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "میرا ماننا ہے کہ وزارت دفاع کو مجموعی طور پر فوج اور معاشرے دونوں کے ساتھ بات چیت کے نئے طریقوں اور دیگر فارمیٹس کی ضرورت ہے۔"

اس اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی یوکرینی فوج نے جنوبی اوڈیسا خطے میں ڈینوب بندرگاہ کو نشانہ بنانے والے روسی ڈرونز پر حملے کیے تھے۔

زیلنسکی کا کہنا تھا، "اولیکسی ریزینکوف نے 550دنوں سے زیادہ عرصے سے جاری مکمل جنگ کے دوران قیادت کی۔"

سوانحی خاکہ رستم عمیروف

رستم عمیروف، یوکرین میں سرکاری پراپرٹی فنڈ چلاتے ہیں۔ صدر زیلنسکی نے انہیں وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔

کریمین تاتار کمیونٹی کے رکن عمیروف بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی زیلنسکی کی کوششوں کے ایک کلیدی رکن بھی ہیں۔

کریمین تاتار کمیونٹی کے رکن رستم عمیروف بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی زیلنسکی کی کوششوں کے ایک کلیدی رکن بھی ہیں: فوٹو اے ایف پی
کریمین تاتار کمیونٹی کے رکن رستم عمیروف بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی زیلنسکی کی کوششوں کے ایک کلیدی رکن بھی ہیں: فوٹو اے ایف پی

ماہرین کا کہنا ہے کہ کابینہ میں رد و بدل سے یوکرین کی جنگی حکمت عملی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ کیونکہ یوکرین کے مسلح افواج کے کمانڈر جنرل ویلری زلوزنی جنگی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔

زیرینکوف کی برطرفی زیلنسکی کی انتظامیہ میں بدعنوانی کے خلاف وسیع تر مہم کے درمیان ہوئی ہے۔ جس کا مقصد ریاست میں بدعنوانی کو ختم کرنا ہے، جسے یورپی یونین جیسے مغربی اداروں میں شمولیت کی اس کی خواہش کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی بدعنوانی انڈیکس کے مطابق بدعنوانی کے معاملے میں یوکرین 180 ملکوں کی فہرست میں 160 ویں نمبر پر ہے، حالانکہ حالیہ برسوں میں بعض اقدامات کی وجہ سے اس کی پوزیشن میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔

گو کہ ریزینکوف پر ذاتی طور پر بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں ہے لیکن وزارت دفاع میں بدعنوانی کے کئی اسکینڈل سامنے آئے ہیں۔

یوکرین کی میڈیا کا کہنا ہے کہ ریزینکوف لندن میں کییف کے نئے سفیر بنائے جاسکتے ہیں یوکرین کے میڈیا کا کہنا ہے کہ ریزینکوف لندن میں کییف کے نئے سفیر بنائے جا سکتے ہیں

زیرینکوف کا مستقبل کیا ہو گا؟

یوکرین کی میڈیا کا کہنا ہے کہ ریزینکوف لندن میں کییف کے نئے سفیر بنائے جاسکتے ہیں، جہاں انہوں نے سینیئر سیاست دانوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرلیے ہیں۔

ستاون سالہ ریزینکوف یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی معروف شخصیت بن گئے تھے۔ انہوں نے بین الاقوامی طور پر اپنی شناخت بنالی ہے۔ وہ یوکرین کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ ہونے والی میٹنگوں میں مستقل شرکت کرتے رہے ہیں اور اضافی فوجی ساز و سامان کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تاہم کچھ عرصے سے ان کی برطرفی کی توقع کی جارہی تھی۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی دوسرے عہدے کے سلسلے میں یوکرینی صدر کے ساتھ غور و خوض کر رہے ہیں۔

یوکرین کی مقامی میڈیا کے مطابق سابق وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اگر زیلنسکی انہیں اپنے ساتھ کسی بھی دوسرے پروجیکٹ پر کام کرنے کی پیش کش کریں گے تو وہ اسے بخوشی قبول کریں گے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں