تونس: مردہ خانوں میں لاوارث تارکین وطن کی متعفن لاشوں کے ڈھیر لگ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غیر قانونی پناہ گزینوں کا مسئلہ بحیرہ روم کی سرحد سے متصل ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے مگر تونس ان ممالک میں شامل ہونے کی وجہ سے اضافی مشکلات سے دوچار ہے۔

تونس کے مختلف ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں غیر قانونی تارکین وطن کی لاشوں کے انبار ہیں اور گلی سڑی ان لاشوں سے تعفن پھیل رہا ہے۔

ملک کے جنوب مشرق میں واقع شہر قابس کے ہسپتال میں تعفن زدہ لاشوں کی بدبو کی وجہ سے طبی عملے کے بے ہوش ہونے کے واقعات دیکھنے میں آئے۔

افریقی تارکین وطن

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق منگل کو قابس میں علاقائی کونسل کی ہیلتھ کمیٹی کے سربراہ عصام الجابری نے تصدیق کی کہ صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تقریباً 55 لاشیں ہسپتال کے مردہ خانوں میں پڑی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "مقامی حکام کی جانب سے جون کے وسط سے اجازت ملنے کے باوجود تقریباً 22 لاشیں تدفین کی منتظر ہیں۔"

غیر تونسی غیر قانونی تارکین وطن کی تقریباً 700 لاشیں گریٹر صفاقس میونسپلٹی کے قبرستانوں میں دفن کی جا چکی ہیں ۔ رائیٹرز
غیر تونسی غیر قانونی تارکین وطن کی تقریباً 700 لاشیں گریٹر صفاقس میونسپلٹی کے قبرستانوں میں دفن کی جا چکی ہیں ۔ رائیٹرز

انہوں نے انکشاف کیا کہ ہسپتال میں میتوں کے کمروں سے نکلنے والی بدبو کی وجہ سے طبی اور پیرا میڈیکل سٹاف کے بیہوش ہونے کے متعدد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

قابل ذکر ہے کہ تونس نے اس سال کے وسط میں اپنے ساحل سے غیر قانونی تارکین وطن کی 900 سے زائد لاشیں برآمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جب کہ صحت کے حکام نے تصدیق کی کہ ملک کے مشرق میں واقع صفاقس گورنری میں مردہ خانے کی گنجائش ختم ہوچکی ہے۔ گذشتہ سال جولائی کے بعد وہاں پر سب سے زیادہ لاشیں لائی گئیں۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس سال کے آغاز سے اب تک غیر تونسی غیر قانونی تارکین وطن کی تقریباً 700 لاشیں گریٹر صفاقس میونسپلٹی کے قبرستانوں میں دفن کی جا چکی ہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں