تباہ شدہ گاؤں کی تقریبا ساری آبادی جاں بحق، بچ جانیوالے مراکشی نے کیا بتایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش میں آنے والے زلزلے کے تیسرے دن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے دوران ایک گاؤں کے واحد بچ جانے والے شخص نے اپنے زندہ بچ جانے کو ایک معجزہ قرار دے دیا۔

پیر کے روز ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں شہری نے کہا میں معجزانہ طور پر بچ گیا۔ ’’ثلاثۃ یعقوب‘‘ گاؤں میں بڑے پیمانے پر تباہی آئی۔

شہری نے بتایا میں سونے ہی والا تھا۔ میں نے پہلے ایک چھوٹی سی آواز سنی تو میں اپنے بستر سے اٹھا اور اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ باہر چلا گیا اور چند ہی سیکنڈ بعد عمارت گر گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گاؤں میں بہت کم لوگ زندہ بچ گئے کیونکہ زیادہ تر رہائشی مر گئے۔ بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے مناظر سے پتہ چلتا ہے کہ ’’ثلاثۃ یعقوب‘‘ کے ساتھ بڑی تباہی ہوئی۔ مکمل طور پر تباہ شدہ گاؤں زلزلے کے مرکز ایگل کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ایگل ’’ثلاثۃ یعقوب‘‘ سے 10 کلومیٹر دور ہے۔

العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ وہ متاثرہ گاؤں میں تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتے کی صبح سے پہلے زلزلہ آنے کے بعد سے سڑکیں مکمل طور پر بند ہوگئی تھیں یہ سڑکیں پیر کو کھولی جا سکیں۔ اس بندش کی وجہ سے ’’ثلاثۃ یعقوب‘‘تک رسائی ناممکن ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس گاؤں کی طرف آنے والی سب سے مشکل سڑک بن گئی تھی۔

یاد رہے کہ 8 ستمبر جمعہ کی رات کو آنے والا یہ زلزلہ 1960 کے بعد مراکش میں متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے دوسرا بڑا زلزلہ ہے۔ 1960 میں آنے والے زلزلے میں 12 ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ اس زلزلہ میں اب تک لگ بھگ اڑھائی ہزار اموات سامنے آگئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں