عراق کا سویڈن سے قرآن مجید جلانے والے دریدہ دہن پناہ گزین کی حوالگی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق نے سویڈن سے قرآن مجید کی بار بار بے حرمتی اور اس کے مقدس اوراق جلانے والے عراقی پناہ گزین سلوان مومیکا کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔اس کی دریدہ دہن حرکت پر بین الاقوامی سطح پرسخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

سویڈش پولیس نے منگل کے روز مومیکا سے عراق کی حوالگی کی درخواست کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کی ہے۔اس کے بعد اس کے وکیل ڈیوڈ ہال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’عراق چاہتا ہے کہ اس کی حوالگی کی جائے کیونکہ اس نے جون میں (اسٹاک ہوم میں) مسجد کے باہر قرآن مجید کا نسخہ جلایا تھا‘‘۔

ہال کا کہنا ہے کہ ’’کسی شخص کو دوسرے ملک کے حوالے کیے جانے سے متعلق (سویڈش) قانون کہتا ہے کہ جرم کا ارتکاب سویڈن اور عراق دونوں میں ہونا چاہیے۔اسلام کی مقدس کتاب کو جلانا سویڈن میں جُرم نہیں ہے، لہٰذا سویڈن کے لیے اس کی عراق کو حوالگی ممکن نہیں‘‘۔

ہال نے مزید کہا کہ ’’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ (عراقی) اس طرح کے مطالبے کے بارے میں مشوش کیوں ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ عراقی حکومت اس بات کو سمجھتی ہے‘‘۔

سویڈن کی حکومت نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی مذمت کی ہے لیکن اظہاررائے اور اجتماع کی آزادی سے متعلق ملک کے قوانین کو برقرار رکھا ہے اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

مومیکا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ’’عراق سویڈن سے میری حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ اسلامی قوانین کے مطابق میرا فیصلہ کیا جا سکے اور میرا احتساب کیا جا سکے‘‘۔

اس نے مزید کہا کہ میں عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے خلاف شکایت درج کراؤں گا کیونکہ انھوں نے میرے خلاف سیاسی جُرم کا ارتکاب کیا ہے۔

مومیکا نے جون سے سویڈن میں ہونے والے متعدد مظاہروں کے دوران میں قرآن مجید کا نسخہ اور اوراق نذر آتش کیے ہیں۔اس پر مسلم ممالک میں بڑے پیمانے پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے اوراس کی مذموم حرکت کی مسلسل مذمت کی جا رہی ہے۔

عراقی مظاہرین نے جولائی میں بغداد میں سویڈش سفارت خانے پر دو بار دھاوا بولا تھا اور دوسرے مظاہرے کے وقت سفارت خانے کے احاطے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

سویڈن کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اگست کے وسط میں ملک کو’’ترجیحی ہدف‘‘ بنائے جانے کے بعد دہشت گردی سے متعلق الرٹ کی سطح کو پانچ کے پیمانے پر بڑھا کر چار کر دیا تھا۔

سویڈش حکومت بعض حالات میں مقدس کتابوں کو نذر آتش کرنے سے متعلق مظاہروں کو روکنے کے قانونی طریقے تلاش کر رہی ہے ، لیکن یہ یقینی نہیں ہے کہ اس کے پاس ترمیمی قانون سازی کے لیے درکار اکثریت ہوگی۔

وکیل ڈیوڈ ہال کا کہنا تھا کہ مومیکا کی حوالگی کا معاملہ سویڈش سپریم کورٹ تک جا سکتا ہے اور اس کے فیصلے میں کئی ہفتے یا چند ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں