روسی صدر کے ساتھ رقص سے شہرت پانے والی سابق آسٹرین وزیر روس منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آسٹریا کی ایک سابق وزیر جو 2018 میں روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ رقص کی وجہ سے مشہور ہوئی تھیں لبنان میں عارضی قیام کے بعد روس منتقل ہوگئی ہیں۔

سابق آسٹرین وزیرہ نے بتایا کہ وہ لبنان سے شام کے حمیحیم ہوائی اڈے پہنچیں جہاں سے وہ اپنے دو گھوڑوں کے ساتھ ایک فوجی طیارے ماسکو پہنچی ہیں۔

سابق وزیر خارجہ کیرن کنیسل جنہیں انتہائی دائیں بازو کی طرف سے دسمبر 2017 اور مئی 2019 کے درمیان آسٹریا کی سفارت کاری کی سربراہ مقرر کیا گیا تھا نے کہا کہ انہوں نے 2022 میں وہ شورش زدہ ملک کو چھوڑ کر سینٹ پیٹرزبرگ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ لبنان میں عارضی طور پر مقیم رہیں۔ وہاں سے انہوں نے مستقل طور پر سینٹ پیٹرس برگ کا سفر کیا جہاں گذشتہ جون میں یونیورسٹی کے ایک نئے تحقیقی مرکز کی سربراہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

منگل کے روز تحقیقاتی رپورٹنگ ویب سائٹ "دی انسائیڈر" نے اس سفر کی مذمت کی جس میں سابق آسٹرین وزیرہ نے گذشتہ ہفتے روسی فوجی طیارے پر اپنے دو پونی گھوڑوں اور دیگر سامان کے ساتھ شام کے حمیحیم ہوائی اڈے سے کیا تھا۔

بدھ کے روز 58 سالہ کنیسل نے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔

متنازعہ شخصیت

اس نے اے ایف پی کو بتایا کہ "جنگی حالات میں شام کے راستے ٹرک چلانا میرے لیے ناممکن تھا"۔

بعد میں کنیسل نے ٹیلیگرام ایپلی کیشن کے ذریعے وضاحت کی کہ "پابندیوں کی وجہ سے کوئی پروازیں یا DHL (شپنگ سروسز) نہیں ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ان کا ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا معاملہ کیسے "سیاسی مسئلہ" بن گیا۔

کنیسل نے 2018ء میں اس وقت منظرعام پرآئیں جب انہوں نے روسی صدر کو اپنی شادی میں مدعو کیا جب وہ وزیر خارجہ تھیں۔

اس دن کریملن کے قریبی ذرائع ابلاغ نے ایسی تصاویر شائع کیں جو پوری دنیا میں پھیل گئیں، جس میں دلہن روسی صدر کے ساتھ والٹز کرتے ہوئے رقص کرتی نظر آئی اور مبالغہ آرائی کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کرتی دکھائی دی۔

حکومت چھوڑنے کے بعد 2021 میں کنیسل نے روسی تیل کمپنی روزنیفٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شمولیت اختیار کی یہ عہدہ اس نے مئی 2022 میں روسی افواج کے یوکرین پر حملے کے بعد چھوڑا تھا۔

کنیسل اپنے ملک کی ایک متنازعہ شخصیت سمجھی جاتی ہے مگر ستمبر 2020 میں وہ فرانس چلی گئی جہاں سے وہ لبنان چلی گئی۔

کنیسل نے تصدیق کی کہ اس نے فرانس کو اپنی مرضی سے نہیں چھوڑا، اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں