لیبیا کے سابق وزیر اعظم عبدالعاطی العبیدی انتقال کرگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے سابق وزیر اعظم عبدالعاطی بن ابراہیم العبیدی ہفتے کے روز 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

العبیدی کے اہل خانہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

عبدالعاطی بن ابراہیم العبیدی 1939ء میں لیبیا کے جبل الاخضر علاقے میں پیدا ہوئے اور یکم ستمبر 1969 کی بغاوت کے بعد سے سیاست میں سرگرم ہوگئے تھے۔

العبیدی کون تھے؟

وہ مقتول کرنل معمر قذافی کے دور میں فروری 2011 تک کئی عہدوں پر فائز رہے، جن میں وزارت عظمیٰ، وزارت محنت وافرادی قوت، جنرل پیپلز کانگریس کے سیکرٹری اور جنرل پیپلز کمیٹی برائے خارجہ رابطہ کے یورپی اور شمالی امریکا کے امور کے سیکرٹری کے عہدے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تونس اور اٹلی میں لیبیا کے سفیر بھی رہے۔

چھ اپریل 2011 کو انہیں موسی کوسا کی جگہ وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ 17 فروری کے انقلاب کے دوران وہ قذافی کی حکومت سے منحرف ہو کر برطانیہ چلے گئے۔

تاہم 2011 میں قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد العبیدی کو جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جنوبی طرابلس کی اپیل کورٹ نے 2015 میں انہیں جنگی جرائم کے الزامات سے بری کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

لاکربی بم دھماکے

2013 میں لیبیا کی ایک عدالت نے العبیدی اور لیبیا میں جنرل پیپلز کانگریس (پارلیمنٹ) کے سابق سیکرٹری محمد ابو القاسم الزاوی کو لاکربی بم دھماکے کے کیس کے میں "مالی جرائم" کے ارتکاب سے بری کر دیا۔

رائیٹرز کے مطابق ان پر 1988ء کے لاکربی بم دھماکے کے متاثرین کے خاندانوں کو 2.7 بلین ڈالر کے معاوضے کی ادائیگی میں سہولت فراہم کر کے عوام کا پیسہ ضائع کرنے کا الزام تھا۔

قابل ذکر ہے کہ 1988ء میں اسکاٹ لینڈ کے لاکربی قصبے پر امریکی طیارے کے حادثے میں 270 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لیبیا کے عبدالباسط المقرجی کو طیارے کو دھماکے سے اڑانے کا مجرم قرار دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس کے باوجود اس نے واقعے سے کسی بھی تعلق سے انکار کرنے پر اصرار کیا تھا۔ مقرجی کو خرابی صحت کی وجوہات کی بناء پر 2009 میں رہا کر دیا گیا جس کے بعد وہ کینسر کی بیماری سے لڑتے ہوئے 2012ء میں انتقال کر گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں