تُرکیہ میں کویتی شہری پرتشدد کے واقعے پرعوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تُرکیہ میں ایک کویتی سیاح پر حملے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد کویت میں سوشل میڈیا، عوامی حلقوں اور سیاسی رہ نماؤں کی طرف سے شدید غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

عوامی حلقوں کی طرف سے اس واقعے کی تحقیقات کرانے اور ترک حکومت کے سامنے اس معاملےکو اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ تُرکیہ کے شہر طرابزون میں گذشتہ دنوں سامنے آنے والے ویڈیو میں ایک کویتی شہری کو تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا گیا ہے۔ تشدد سےکویتی شہری سے کوبے ہوش دیکھا جا سکتا ہے۔تشدد زدہ کویتی شہری کے پاس راہ گیر اور اس کے اہل خانہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔

طرابزون شہر کی پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔

ترکیہ میں کویتی سفارت خانے نے اعلان کیا کہ "حملے کا شکار شہری ٹھیک ہے اور اسے اس کے حقوق ملیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔"

ترکیہ میں کویتی سفیروائل العنیزی نے میڈیا کے بیانات میں کہا کہ تُرک حکام نے اس کیس میں کافی دلچسپی ظاہر کی ہے اور سفارت خانے کے وکیل طریقہ کار پر عمل کر رہے ہیں۔ ترک حکام نے حملہ کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ واقعے کے گھنٹےور وہ حراست میں ہے۔"

الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی وزارت سیاحت کے شائع کردہ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2023 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ترکیہ آنے والے کویتی سیاحوں کی تعداد 163,496 تک پہنچ گئی۔

کویت میں ترکیہ کی سابق سفی عائشہ ہلال سیان کویتک نے اتوار کو کہا کہ طرابزون ریاست میں کویتی شہری کے خلاف حملہ کرنے والے کو "عدلیہ کے سامنے ضروری سزا ملے گی"۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اس حملے سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں