پاکستان نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فروخت کا الزام مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی جریدے ’دی انٹرسیپٹ‘ کی خبر پر پیر کو ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روس اور یوکرین کے تنازعے میں غیر جانبداری کے اصول پر عمل پیرا ہے اور فریقین میں سے کسی کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔

دی انٹرسیپٹ کی خبر میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کے بدلے روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو ہتھیار فراہم کیے ہیں

ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے پیر کو امریکی جریدے ’دی انٹرسیپٹ‘ کی رپورٹ کے حوالے سے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) بیل آؤٹ پیکج کیلئے یوکرین کو پاکستانی ہتھیاروں کی فروخت کی خبر بے بنیاد ہے۔ پاکستان اس بے بنیاد اور من گھڑت خبر کو مسترد کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے پاکستان کے لیے عبوری معاہدے پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کامایب مذاکرات ہوئے جس کی بنیاد مشکل لیکن ضروری معاشی اصلاحات تھیں۔ ان مذاکرات کو کوئی اور رنگ دینا مکروہ عمل ہے۔‘

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان یوکرین اور روس کے درمیان تنازعے میں سخت غیر جانبداری کی پالیسی پر کار بند ہے، اس تناظر میں انہیں کوئی اسلحہ اور گولہ بارود فراہم نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی دفاعی برآمدات ہمیشہ خریداروں کے لئے سخت شرائط کے ساتھ ہوتی ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’دی انٹرسیپٹ‘ نے اپنی ایک خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو رواں سال عالمی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘ سے تین ارب ڈالر قرض کی فراہمی کا معاہدہ اس لیے طے پایا کیوں کہ پاکستان نے امریکہ کی پشت پناہی سے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کی ایک خفیہ ڈیل کی تھی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’دی انٹرسیپٹ‘ نے اپنی ایک خبر میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو رواں سال عالمی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘ سے تین ارب ڈالر قرض کی فراہمی کا معاہدہ اس لیے طے پایا کیوں کہ پاکستان نے امریکہ کی پشت پناہی سے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کی ایک خفیہ ڈیل کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں