سعودی عرب میں خواتین کی ملکیتی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کا حجم 40 فیصد ہے: شہزادی ریما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان نے کل جمعرات کو پیرس میں ورکشاپ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں خواتین کی ملکیتی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کا حجم 40 فیصد ہوگیا ہے۔

یہ ورکشاپ رائل کمیشن فار دی سٹی آف ریاض کی طرف سے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقد کی گئی تھی، جو ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے مملکت کی بولی کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی معیشت جی 20 ممالک میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جبکہ ملک کی تیل کے متبادل آمدنی دوگنی ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی مملکت نے اپنی تاریخ میں روزگار کی بلند ترین شرح حاصل کر لی ہے، اس سے خواتین کی شرکت اور لیبر مارکیٹ دوگنی ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کی ملکیت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اس موقع پر فرانس میں سعودی عرب کے سفیر، فہد الرویلی نے کہا کہ "ہم مشترکہ حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اور مملکت سعودی عرب ہماری مشترکہ خواہشات کو حاصل کرنے کے لیے تمام ممالک کے ساتھ شراکت دار کے طور پر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے ہم آہنگی بڑھانے کے لیے ریاض ایکسپو 2030 کو بروئے کار لانے کے لیے بھی پرعزم ہیں۔"

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا: "ہم نمائش کی تعمیر کے مواقع کو پوری دنیا کے ساتھ بانٹنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ریاض ایکسپو 2030 کے لیے ہمارا وژن دنیا سے دنیا تک ایک ایکسپو ہے۔"

قابل ذکر ہے کہ یہ ورکشاپ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں رائل کمیشن فار دی سٹی آف ریاض کی طرف سے منعقد کی جانے والی ورکشاپس کے سلسلے میں ہے، جس کا عنوان "سب کے لیے خوشحالی" ہے۔

جس کا مقصد ہر ملک کے ساتھ اس کے ثقافتی نقطہ نظر، ارد گرد کے حالات اور خواہشات کا اشتراک کرکے عالمی تفاوت اور عدم توازن کو دور کرنا اور ایک زیادہ جامع دنیا کی طرف سفر ہے جو انسانی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں