انتہا پسندی کا مقابلہ، پاکستان سے تعاون جاری رہے گا: امریکہ

ہم ہر قسم کی پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں بہتر مدد کر سکتے ہیں: ترجمان دفتر خارجہ میتھیو ملر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) کے ترجمان میتھیو ملر نے پیر کو کہا ہے کہ امریکہ ہر قسم کی پرتشدد انتہا پسندی کے مقابلے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں پریس بریفنگ کے دوران پاکستان میں 29 ستمبر کو ہونے والے خود کش دھماکوں کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کیا۔

پریس بریفنگ کے دوران میتھیو ملر سے سوال کیا گیا کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش حملے میں 50 سے زیادہ اموات ہوئیں، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش ہمیشہ اس طرح کے حملوں کی ذمہ داریاں قبول کرتی ہیں۔

’ہم نے بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں کے متعدد بیانات سنے ہیں کہ امریکہ افغانستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کی اپنی صلاحیت برقرار رکھے گا۔ تو امریکہ کو افغانستان میں ٹی ٹی پی اور داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے سے کیا چیز روکتی ہے؟‘

اس کے جواب میں میتھیر ملر نے ایک بار پھر پاکستان میں 12 ربیع الاول کے جلوس پر ہونے والے حالیہ خودکش حملوں پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا: ’پاکستانیوں نے دہشت گردوں کے حملوں سے بے پناہ نقصان اٹھایا ہے۔ وہ بغیر کسی خوف کے اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے مستحق ہیں۔

’ہم یقیناً ان خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔‘

ترجمان میتھیو ملر نے مزید کہا: ’میں دہشت گردی کے خلاف تعاون کے حوالے سے کہوں گا کہ ہم دہشت گردوں کی عالمی فہرست اور دہشت گرد گروپوں کو شکست دینے کی عالمی حکمت عملیوں سمیت متعدد مسائل کے حوالے سے کثیر الجہتی فورمز پر پاکستان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’اس سال کے شروع میں ہم نے اپنے دونوں ممالک (پاکستان اور افغانستان) کو درپیش مشترکہ دہشت گردی کے خطرات پر تبادلہ خیال کرنے اور سرحدی سلامتی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت جیسے شعبوں میں تعاون کے لیے حکمت عملیوں پر کام کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے انسداد دہشت گردی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا۔

’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم ہر قسم کی پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں میں بہتر مدد کر سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں