فزکس کا نوبیل انعام تین سائنسدانوں کے نام
ٹیم میں شامل این ایلہوئیلر تاریخ کی پانچویں خاتون ہیں جنہیں طبعیات کے نوبیل انعام سے نوازا گیا
رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز نے سال 2023 کے لیے فزکس کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے سائنسدانوں کے ناموں کا اعلان کر دیا۔
اس سال فزکس کا نوبیل انعام ایٹو سیکنڈ پلسز آف لائٹ پر تحقیق کرنے والے پیئری ایگوسٹنی (اوہائیو یونیورسٹی، امریکہ)، فیرینگ کروز (میکس پلینک انسٹیٹیوٹ، جرمنی) اور این ایلہوئیلر (لُند یونیورسٹی سوئیڈن) کے نام رہا۔
ایٹو سیکنڈ فزکس کا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں سائنس دان وقت کے انتہائی چھوٹے پیمانے پر انتہائی چھوٹے ذرات کو دیکھتے ہیں۔ ایٹو سیکنڈ ایک نینو سیکنڈ کا ایک ارب واں حصہ ہوتا ہے۔
BREAKING NEWS
— The Nobel Prize (@NobelPrize) October 3, 2023
The Royal Swedish Academy of Sciences has decided to award the 2023 #NobelPrize in Physics to Pierre Agostini, Ferenc Krausz and Anne L’Huillier “for experimental methods that generate attosecond pulses of light for the study of electron dynamics in matter.” pic.twitter.com/6sPjl1FFzv
نوبیل انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں نے ایسے تجربات وضع کیے جو انتہائی تیز لیزر ارتعاش پیدا کر سکتے ہیں اور دنیا کو انتہائی چھوٹے پیمانے پر پرکھنے میں مدد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں جبکہ طبعیات سمیت دیگر سائنسی شعبوں میں بھی اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
نوبیل انعام حاصل کرنے والے سائنس دانوں کو 10 لاکھ امریکی ڈالر کی رقم بھی دی جائے گی۔
ٹیم میں شامل این ایلہوئیلر تاریخ کی پانچویں خاتون ہیں جن کو فزکس میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ اس سے قبل 221 ایوارڈ یافتہ خواتین میں 1903 میں میری کیوری، 1963 میں ماریہ جیوپرٹ مایر، 2018 میں ڈونا اسٹرک لینڈ اور 2020 میں اینڈریا گھیز نے فزکس میں نوبیل انعام حاصل کیا تھا۔